لاہور ہائیکورٹ نے ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر مکمل چھان بین کا حکم دیا ہے۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی کے معاملے پر کہا ہے کہ درخت کٹنے کی تصاویر موجود ہیں اور معاملہ کو چھوڑا نہیں جا سکتا۔ عدالت نے ایک اعلیٰ سطح کے افسر کو تعینات کرنے کا حکم دیا ہے جو اس معاملے کی مکمل چھان بین کرے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے سموگ کے تدارک سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی، جس میں پی ایچ اے نے ناصر باغ میں درختوں کی مبینہ کٹائی کی رپورٹ جمع کرائی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ درخت این جی او کی مدد سے منتقل کیے گئے ہیں۔ عدالت نے پی ایچ اے کے قوانین پر سوال اٹھایا کہ ان میں درختوں کی منتقلی کی شق نہیں ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ 123 درخت ری پلانٹ کیے گئے مگر متعلقہ ادارے کو اس کا علم نہیں۔ پی ایچ اے کو ہدایت کی گئی کہ وہ درختوں کی منتقلی کی پالیسی سے متعلق رپورٹ جمع کرائیں اور عوام کو منصوبوں کے فوائد بتائیں۔
جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ اے کیو آئی میں بہتری آئی ہے اور بڑی گاڑیوں پر جاری کریک ڈاؤن کو سراہا۔ انہوں نے سردیوں کی دو ہفتے کی چھٹیوں کو بھی اچھی بات قرار دیا۔ عدالت نے متعلقہ محکموں سے پیشرفت رپورٹس طلب کیں اور کاروائی ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔















