پاکستان میں فضائی آلودگی سے سالانہ 2 لاکھ 56 ہزار اموات ہو رہی ہیں، شیری رحمان
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں فضائی آلودگی کے باعث سالانہ 2 لاکھ 56 ہزار افراد کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسموگ سردیوں میں بڑھنے والی فضائی آلودگی کی ایک شکل ہے جو زہریلے کیمیائی مادوں کا مجموعہ ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ آلودگی دہشت گردی سے زیادہ جانیں لیتی ہے، اور لاہور آلودگی کے لحاظ سے دہلی کے برابر ہے۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ای پی اے کی طرف سے ڈیٹا کی عدم موجودگی پر اظہار برہمی کیا گیا اور کمیٹی کی چیئرمین نے پریزنٹیشن مسترد کر دی۔
شیری رحمان نے کہا کہ فضائی آلودگی پاکستان کو سالانہ 22 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہے جو ملکی جی ڈی پی کے تقریباً 6.5 فیصد کے برابر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2024 میں فضائی معیار کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا تیسرا سب سے زیادہ آلودہ ملک قرار پایا ہے۔
کمیٹی اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ پنجاب کے بدترین متاثرہ علاقوں میں اسموگ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو متاثر کر رہی ہے، جو جان لیوا سانس کی بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ شیری رحمان نے ایئر کوالٹی مانیٹرنگ کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔















