ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ آبادی کی شرح میں کمی سے فی کس آمدن 2100 ڈالر تک ہوسکتی تھی، جس سے معیار زندگی میں بہتری آتی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایس ڈی پی آئی کے سینئر مشیر ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا ہے کہ اگر پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح 2.5 فیصد کے بجائے 1.8 فیصد ہوتی تو فی کس آمدن 2100 ڈالر تک پہنچ سکتی تھی، جس سے عوام کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری آتی۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں پاپولیشن سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
ڈاکٹر عشرت حسین کا کہنا تھا کہ 1960 میں آبادی کی منصوبہ بندی کا تسلسل برقرار رہتا تو آج آبادی کی شرح میں کمی ممکن ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ آبادیاتی بحران کی بڑی وجہ اداروں کی انتشار ہے، آبادی کا مسئلہ ملٹی ڈسپلن حکمت عملی کا متقاضی ہے۔
ڈاکٹر عشرت حسین نے مزید کہا کہ آبادی بحران اور موسمیاتی تبدیلی کے حل پر توجہ نہ ہونے کی وجہ سیاسی قیادت کی ترجیحات ہیں، جو انتخابی منصوبوں میں مصروف رہتے ہیں اور ووٹ بینک کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔















