بلوچستان میں ایڈز کے 3,303 کیسز رجسٹرڈ، عوام کو احتیاط کی اپیل۔ کوئٹہ میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔
کوئٹہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بلوچستان میں ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد 3,303 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 707 خواتین، 90 خواجہ سرا اور 2,362 مرد شامل ہیں۔ گزشتہ سال 452 اموات کی اطلاع بھی ملی ہے۔ یہ بات ورلڈ ایڈز ڈے کے موقع پر کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی گئی۔
صوبائی ایڈز کنٹرول پروگرام کی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سحرین نوشیرونی اور ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز بلوچستان ڈاکٹر ہاشم مینگل نے عوام میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کیسوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود، رجسٹریشن میں بہتری آئی ہے اور مریضوں کی تعداد 2,851 سے بڑھ کر 3,303 ہو گئی ہے۔
کوئٹہ میں سب سے زیادہ 2,164 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ تربت میں 368، حب میں 158، نصیرآباد میں 66 اور لورالائی میں 96 کیسز درج ہیں۔ حکام کے مطابق، منشیات استعمال کرنے والے افراد، مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے والے افراد اور خواجہ سرا ایڈز کے زیادہ متاثرہ گروپوں میں شامل ہیں۔
حکام نے کہا کہ وائرس بنیادی طور پر غیر محفوظ جنسی رابطے، ماں سے بچے میں منتقلی اور غیر محفوظ خون کی منتقلی اور استعمال شدہ سرنجوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ عوامی شعور کی کمی کو کیسوں کے اضافے کی بڑی وجہ قرار دیا گیا۔
بلوچستان کے محکمہ صحت نے کوئٹہ، تربت اور دیگر اضلاع میں ایڈز کے علاج کے مراکز قائم کیے ہیں، جہاں مفت علاج اور اسکریننگ کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔















