پنجاب حکومت نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے سموگ پر قابو پانے کی کوشش شروع کی ہے۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) لاہور، جو کبھی پاکستان کا "باغات کا شہر” کہلاتا تھا، اب ہر سال سردیوں میں سموگ کے دبیز پردے میں لپٹ جاتا ہے۔ یہ فضا کی آلودگی، فصلوں کی باقیات کو جلانے، گاڑیوں کے دھوئیں اور صنعتی اخراج کا نتیجہ ہے جس کے باعث سکولوں، کاروباروں اور ہائی ویز کو بند کرنا پڑتا ہے۔
اس بار پنجاب حکومت نے سموگ کے خلاف لڑائی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبے میں 100 اے آئی سسٹمز پر مبنی اسٹیشنز لگائے گئے ہیں جو فضائی آلودگی کی پیش گوئی، نفاذ اور عوامی ردعمل کے مرکز میں ہیں۔ یہ اسٹیشنز مسلسل ڈیٹا کا تجزیہ کرکے سموگ کی پیش گوئی کرتے ہیں۔
پنجاب کے مختلف صنعتی اور شہری مراکز میں 8500 کیمرے، ڈرونز اور تھرمل سینسرز اے آئی ڈیش بورڈ کے ساتھ منسلک ہیں جو فیکٹریوں اور بھٹوں کے اخراج کی نگرانی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت نے ایک خصوصی ماحولیاتی تحفظ فورس بھی تشکیل دی ہے جو ڈیجیٹل طور پر اے آئی کمانڈ سینٹر سے منسلک ہے۔
حکومت کے مطابق، اس نظام کی بدولت سال بھر میں فصلوں کی باقیات کو جلانے کے واقعات میں 65 فیصد کمی آئی ہے اور صنعتی علاقوں میں 95 فیصد فیکٹریاں اب اخراج کنٹرول سسٹمز کے تحت کام کر رہی ہیں۔
تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ سموگ کی بنیادی وجوہات کو حل کیے بغیر اس مسئلے کا حل ممکن نہیں۔ لاہور کی سموگ کو گاڑیوں کے اخراج میں کمی، بہتر عوامی ٹرانسپورٹ اور صاف ایندھن کے استعمال کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔















