کراچی سمیت ایشیا پیسفک کے شہروں میں گرمی کا خطرہ بڑھ رہا ہے

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کراچی سمیت ایشیا پیسفک کے بڑے شہروں میں حرارت کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جس کا اثر بچوں، معمر افراد اور مزدوروں پر ہوگا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)

اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا پیسفک کی نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کراچی ایشیا پیسفک کے ان بڑے شہروں میں شامل ہے جو آنے والے برسوں میں نمایاں طور پر زیادہ گرم ہو جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق شہری علاقوں میں حرارت کے اثرات شدید ہیں اور گنجان آباد مقامات میں درجہ حرارت آس پاس کے دیہی علاقوں سے زیادہ ریکارڈ ہوتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بے ہنگم شہری توسیع اور سبزہ کی کمی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے، جبکہ شہری حرارت کا اثر عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے اوپر اضافی ۲ سے ۷ ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھا سکتا ہے۔ یہ اثر بچوں، معمر افراد اور کھلی جگہوں پر کام کرنے والے مزدوروں پر زیادہ پڑے گا۔

اقوام متحدہ کے مطابق سیؤل، ٹوکیو، بیجنگ، دہلی، کراچی اور دیگر شہروں کو بلند خطرے والے شہروں میں رکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ۲۰۴۱ سے ۲۰۶۰ کے دوران منگولیا، پاکستان، ازبکستان، ایران اور ترکمانستان شدید خشک سالی کے خدشات سے دوچار رہیں گے، کیونکہ زیادہ درجہ حرارت سے زمین اور آبی ذخائر تیزی سے خشک ہوں گے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ۲۰۲۴ اور ۲۰۲۵ میں خطے کو مختلف قدرتی آفات اور موسمی شدت والے واقعات کا سامنا رہے گا۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ بلند درجہ حرارت خوراک کے نظام، شہری زندگی، دیہی معاش، صحت عامہ، بنیادی ڈھانچے اور ماحولیات کو متاثر کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مستقبل کے موسمی ماڈلز میں ایشیا پیسفک میں ہیٹ اسٹریس میں تیز اضافہ ہوگا اور ۲۰۵۰ تک اموات کی شرح دگنی ہو سکتی ہے۔ شہری غریب آبادی سب سے زیادہ متاثر ہوگی کیونکہ گنجان آباد علاقوں میں شدید گرمی کا اثر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں