سوشل میڈیا پر جرمن جیل کے کارٹیلیج بحالی کے دعوے کو گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
سوشل میڈیا پر دعویٰ ہوا کہ جرمن سائنس دانوں نے اگست 2025ء میں ایک نئی جیل تیار کی ہے جو بغیر سرجری جوڑوں کے خراب کارٹیلیج کو دوبارہ اُگا سکتی ہے۔ یہ جیل یورپ کی منظوری کے مراحل میں ہے اور 2026ء میں کلینکس میں دستیاب ہوگی۔
ماہرین نے اس دعوے کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق یہ جیل 2013ء سے مارکیٹ میں موجود ہے اور کوئی نئی ایجاد نہیں۔ یہ جیل کونڈروفلر کے نام سے جرمنی میں تیار ہوتی ہے اور اس کی تیاری میں فراؤن ہوفر انسٹیٹیوٹ کے سائنس دانوں نے تعاون کیا تھا۔
دستاویزات کے مطابق یہ جیل مائع حالت میں انجیکشن کے ذریعے ایک مختصر اور کم تکلیف دہ سرجری کے دوران استعمال کی جاتی ہے۔ کمپنی کے مریضوں کے لیے جاری کردہ رہنما خطوط میں واضح ہے کہ سرجری کے بعد اڑتالیس گھنٹے تک جوڑ کو ساکت رکھنا لازمی ہے۔
کمپنی کی ہدایت نامے کے مطابق جیل میں کولاجن شامل ہوتا ہے جس سے بعض افراد میں حساسیت یا سوزش کی علامات پیدا ہوسکتی ہیں۔ اس لیے انفیکشن یا الرجی کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔
اب تک 20 ہزار سے زیادہ مریض اس جیل کے ذریعے علاج کروا چکے ہیں۔ دنیا بھر میں محققین کارٹیلیج کی بحالی کے لیے نئی جیلوں پر کام کر رہے ہیں، لیکن یہ تمام مصنوعات انسانوں پر استعمال سے قبل جانچ کے مراحل سے گزرتی ہیں۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پوسٹس جہاں سے یہ دعویٰ آیا، پہلے بھی سائنسی حقائق پر مبنی غلط معلومات شیئر کر چکی ہیں۔















