سندھ میں نئے صوبے کے لیے آئینی ترمیم ممکن، مصطفیٰ کمال

مصطفیٰ کمال نے سندھ میں نئے صوبے کے لیے آئینی ترمیم کی تجویز دی ہے، اگر شہری علاقوں کو حقوق نہ ملے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم) کے رہنما اور وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ اگر سندھ کے شہری علاقوں کو ان کے حقوق نہ ملے تو نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر پیپلز پارٹی نے بلدیاتی نظام پر بات نہ کی تو 18ویں ترمیم خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

مصطفیٰ کمال نے نجی ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال سندھ کو این ایف سی ایوارڈ کی مد میں 2400 ارب روپے ملے ہیں، جن میں سے 800 ارب روپے کراچی کا حق تھے، لیکن کراچی کو 100 ارب روپے بھی نہیں ملے۔ ان کے مطابق وفاق نے تمام فنڈز وزیراعلیٰ سندھ کے حوالے کر دیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے اور وزیراعلیٰ سندھ کچرا اٹھانے کی ذمہ داری بھی نبھا رہے ہیں، جو مقامی سطح کا کام ہوتا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی نے شہری علاقوں کو حق نہ دیا تو نئے صوبے کا مطالبہ زور پکڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے تب بنتے ہیں جب شہری علاقوں کے حقوق دبائے جاتے ہیں اور انہیں وسائل نہیں ملتے۔

انہوں نے زرعی ٹیکس کے حوالے سے کہا کہ پیپلز پارٹی پہلے اس کے خلاف تھی، لیکن آئی ایم ایف کے دباؤ پر زرعی ٹیکس کا اعلان کر دیا گیا۔ اسی طرح آئینی ترمیم بھی ممکن ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں