شمسی توانائی میں اضافہ کے باوجود نیٹ میٹرنگ کو محدودکرنے سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ملک میں شمسی توانائی کے استعمال میں اضافہ کے باوجود تقسیم کار کمپنیوں نے نیٹ میٹرنگ کی سہولت کو محدود کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں، جس سے گھریلو اور صنعتی صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔ توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے تقاضوں کے باعث منظوری کا عمل سست ہو گیا ہے جبکہ شمسی توانائی کی نصب شدہ صلاحیت ملکی طلب کے بڑے حصے کے برابر ہو چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض ڈسکوز نے صارفین کو اپنے اصل منظور شدہ لوڈ کے برابر ہی سولر نظام لگانے کی شرط عائد کی ہے، جبکہ پہلے یہ حد ڈیڑھ گنا تک تھی۔ اس کے علاوہ 10 کلو واٹ سے زائد کے سولر سسٹمز کے لیے اضافی ٹرانسفارمر کی شرط بھی شامل کر دی گئی ہے، جس سے لاگت بڑھ رہی ہے اور منظوری میں تاخیر ہو رہی ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں 424317 نیٹ میٹرنگ سسٹمز نصب کیے جا چکے ہیں، جن کی مجموعی صلاحیت 6389 میگاواٹ سے زائد ہے۔ تاہم، نئے تقاضے اور تاخیر صارفین کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق نیٹ میٹرنگ کا حصہ سالانہ بنیاد پر 57 بیسز پوائنٹس بڑھا ہے، جبکہ بجلی کے بلند نرخوں نے صارفین کو متبادل ذرائع کی طرف مائل کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سردیوں میں ملکی بجلی طلب تقریباً 8000 میگاواٹ رہ جاتی ہے، جبکہ نیٹ میٹرنگ سسٹمز کی مجموعی صلاحیت 6389 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے، جو موجودہ طلب کے تقریباً 80 فیصد کے برابر ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے حکومت کو صلاحیت ادائیگیوں کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔
حکومت کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے تیز رفتار پھیلاؤ سے گرڈ اور تقسیم کار کمپنیوں پر مالی دباؤ بڑھا ہے، جس کے باعث سکیم پر نظرثانی جاری ہے۔ نیپرا ضوابط کے مطابق اضافی یونٹس کا معاوضہ نیشنل ایوریج پاور پرچیز پرائس کے مطابق دیا جاتا ہے۔ حکومت بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز کو فروغ دینے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ شام کے وقت گرڈ پر دباؤ کم ہو سکے۔














