خیبر پختونخواہ میں مانسہرہ سے چین بارڈر تک نئی شاہراہ این 15 کی تعمیر کا منصوبہ پیش کیا گیا، جو تجارتی اور سیاحتی مواقع میں اضافہ کرے گا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) خیبر پختونخواہ اور شمالی علاقہ جات میں ذرائع مواصلات کی بہتری کے لئے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان کی زیر صدارت این ایچ اے کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔ اس اجلاس میں مانسہرہ، ناران، جھالکھنڈ، چلاس موٹروے جیسی شاہراہ کا منصوبہ پیش کیا گیا۔
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے بتایا کہ مانسہرہ سے چین کے بارڈر تک نئی چار رویہ شاہراہ این 15 کی تعمیر ایک انقلابی منصوبہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شاہراہ تجارتی، سیاحتی اور دفاعی اعتبار سے اپنی نوعیت کا منفرد منصوبہ ہو گا اور قراقرم ہائی وے کے مقابلے میں اس فاصلے میں واضح کمی لائے گا۔
شاہراہ این 15 پر رفتار کی حد 60 سے 80 کلومیٹر فی گھنٹہ ہو سکتی ہے اور یہ سال بھر ٹریفک کے لئے کھلی رہے گی۔ وفاقی وزیر نے این ایچ اے کو ہدایت دی کہ اس شاہراہ پر عالمی معیار کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت اس کی تعمیر کی جائے۔
یہ منصوبہ شمالی علاقہ جات کے عوام کی زندگیوں کو بدل دے گا اور وسطی ایشیا تک رسائی کے لئے ایک محفوظ راستہ ثابت ہوگا۔ وفاقی وزیر نے کوشش کی کہ این 15 شاہراہ کے منصوبے کو 2 سال کے عرصے میں مکمل کیا جائے۔















