پاکستان ریلویز کا خسارہ 55 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، جبکہ حکومت نے سی پیک کے تحت 62 ارب ڈالر کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
پاکستان ریلویز کا سالانہ خسارہ 55 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جبکہ 45 فیصد سے 90 فیصد تک موجودہ ریلوے انفراسٹرکچر ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔ اسی دوران، حکومت نے 2024 میں سی پیک کے تحت 62 ارب ڈالر بجٹ کے ساتھ نئے منصوبوں کا اعلان کیا ہے جس میں کراچی سے پشاور تک 6.7 ارب ڈالر کی لاگت سے ایم ایل-1 ریلوے منصوبہ شامل ہے۔
پاکستانی حکومت کے پاس موجودہ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے صلاحیت کا فقدان ہے جبکہ نئے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔ ملک نے آزادی کے وقت ایک مربوط ٹرانسپورٹ نیٹ ورک ورثے میں پایا تھا جسے وقت کیساتھ ساتھ نظرانداز کیا گیا۔
چین نے 2013 میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت 160 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، جس میں سی پیک ایک اہم منصوبہ تھا۔ تاہم، دس سال گزر جانے کے بعد بھی اس منصوبے کے مختلف پہلو غیر واضح ہیں۔
پاکستان کو بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی اور اس کی دیکھ بھال کرنی ہوگی تاکہ مستقبل کے منصوبے کامیابی کے ساتھ مکمل کیے جا سکیں۔ ملک کے حکام کو ایک طویل المدتی ویژن کی ضرورت ہے تاکہ بہتر معاشی ترقی اور علاقائی رابطہ کاری کو یقینی بنایا جا سکے۔













