وفاقی حکومت کا دارالحکومت کی سکیورٹی کےلیے نئے منصوبے کا اعلان

اسلام آباد میں سکیورٹی کے لئے گھر گھر سروے پر شہریوں کی رائے تقسیم؛ نجی معلومات اور قانونی تحفظات پر خدشات

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) 13 نومبر کو اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے باہر خودکش دھماکے کے بعد وفاقی حکومت نے دارالحکومت میں سکیورٹی کے نئے منصوبے کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کا محور ‘محفوظ محلہ’ رجسٹریشن مہم تھی، جسے آئی سی ٹی (اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری) ہاؤس ہولڈ سروے کا نام دیا گیا۔ اس کے ذریعے شہر بھر میں گھروں، دکانوں اور دفاتر کی معلومات جمع کی جانی تھیں۔

اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے بتایا کہ مقامی باشندے خود ڈیجیٹل فارم بھر سکتے ہیں، لیکن پولیس کے ساتھ سروے ٹیمیں دروازے پر بھی جائیں گی۔ ان کے مطابق نامکمل معلومات والے گھروں کی نشاندہی کی جائے گی، اور انتظامیہ ان کے مکمل معلومات حاصل کرے گی، چاہے زور زبردستی سے ہی کیوں نہ ہو۔

آبادی کی رائے تقسیم ہو گئی؛ کچھ نے اسے سکیورٹی کے لئے ضروری سمجھا، جبکہ دیگر نے اسے غیر قانونی مداخلت قرار دیا۔ حکام نے دلیل دی کہ یہ سروے اسلام آباد کے رہائشیوں کے لئے جامع سکیورٹی فراہم کرنے کے لئے ضروری تھا۔ تاہم، شہریوں کے قانونی حقوق کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہوئے کہ ڈیٹا کی حفاظت کا کوئی قانونی فریم ورک نہیں ہے۔

سروے کی مہم کے دوران، کچھ باشندوں نے پولیس کی موجودگی میں معلومات فراہم کیں، جبکہ دیگر نے پرائیویسی کے خدشات کا اظہار کیا۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ مہم حکومت کی نگرانی کو معمول بنائے گی اور شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت کا سبب بن سکتی ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ نادرا کے پاس پہلے ہی شہریوں کی ذاتی معلومات موجود ہیں، اس لئے یہ سروے کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم، قانونی ماہرین نے ڈیٹا پروٹیکشن قوانین کی عدم موجودگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں