علیمہ خان نے ججوں کو انصاف کی عدم فراہمی پر عہدہ چھوڑنے کا مشورہ دیا اور عمران خان کی مبینہ آئیسولیشن پر تشویش ظاہر کی۔
راولپنڈی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ جو جج انصاف فراہم نہیں کر سکتے انہیں عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی مبینہ آئیسولیشن پر تشویش ظاہر کی اور کہا کہ قانون کے مطابق ہفتہ وار فیملی، وکلاء اور رشتہ داروں کی ملاقات کی اجازت ہے مگر اس پر عمل نہیں ہو رہا۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ عمران خان کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر نہیں کر رہی، کیونکہ اگر اپیل سنی گئی تو انہیں ضمانت دینا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمے میں جلدی سے سزا سنانے کا ارادہ ہے، مگر وہ احتجاج سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے نام سے بھارت میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایک جعلی انٹرویو چند منٹ میں پکڑا گیا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جعلسازی پاکستان میں کی گئی۔
ان کے مطابق قانون کے تحت عمران خان سے منگل کو چھ فیملی ممبرز اور چھ وکلاء جبکہ جمعرات کو چھ دوست یا رشتہ دار ملاقات کر سکتے ہیں، اور بشریٰ بی بی سے بھی چھ فیملی ممبرز کو ملاقات کا حق حاصل ہے۔














