چین میں 19 کروڑ سال پرانے ڈائنا سور فوسلز کی حیرت انگیز دریافت

چین میں دو بھائیوں نے 19 کروڑ سال پرانے ڈائنا سور فوسلز کی دریافت کی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

چین: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چین میں دو بھائی اس وقت حیران رہ گئے جب معلوم ہوا کہ وہ دہائیوں سے جن چٹانوں کو راستے سے گزرنے کے لئے استعمال کر رہے تھے، وہ دراصل 19 کروڑ سال پرانے ڈائنا سور کے قدموں کے نشانات پر مبنی فوسلز ہیں۔ یہ انکشاف چینی سائنسدانوں کی ایک تحقیق میں ہوا۔

یہ چٹانیں صوبہ سیچوان کے گاؤں Wuli میں کچھ سال قبل دریافت کی گئیں تھیں۔ ان چٹانوں پر 1998 میں ڈینگ برادرز نے مرغی کے پنجوں جیسے نشانات دیکھے اور انہیں راستے سے گزرنے کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

یہ گاؤں اور ملحقہ علاقے چینی ڈائنا سورز کا گھر سمجھے جاتے ہیں کیونکہ یہاں سے کافی فوسلز مل چکے ہیں۔ ڈینگ برادرز نے ان چٹانوں کو تقریباً دو دہائیوں تک استعمال کیا۔

2017 میں جب مقامی سطح پر ڈائنا سورز کے حوالے سے دلچسپی بڑھی تو ایک بھائی کی بیٹی نے ان چٹانوں کی تصاویر آن لائن پوسٹ کیں۔ ان تصاویر نے مقامی ڈائنا سور میوزیم کی توجہ حاصل کرلی اور بعد ازاں محققین نے تصدیق کی کہ چٹانوں پر کروڑوں سال پرانے ڈائنا سور کے قدموں کے نشانات موجود ہیں۔

ڈینگ خاندان کی اجازت کے بعد ان چٹانوں کو تجزیے کے لئے میوزیم منتقل کیا گیا۔ حال ہی میں ان چٹانوں پر کیے جانے والے تجزیے کے نتائج جرنل آف Palaeogeography میں شائع کیے گئے۔ تحقیق میں 8 چٹانوں پر 413 قدموں کے نشانات دریافت کیے گئے جو 18 سے 19 کروڑ سال پرانے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں