خلا میں سیٹلائٹس کی بڑھتی تعداد خلا کے مشاہدات میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز) خلا میں سیٹلائٹس کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جو زمین پر انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے میں مددگار ہے، لیکن یہ خلا میں موجود ٹیلی اسکوپس کے مشاہدات میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
ناسا کی تحقیق کے مطابق سیٹلائٹس کی روشنی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی تصاویر کو متاثر کرتی ہے، اور اس سے خلا کے مشاہدات میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
2019 میں خلا میں تقریباً 2,000 سیٹلائٹس تھے، جو اب بڑھ کر 15,000 ہو چکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر ایلن مسک کے اسٹار لنک نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ آئندہ برسوں میں ان کی تعداد 5 لاکھ تک پہنچنے کی توقع ہے۔
سیٹلائٹس سورج کی روشنی کو منعکس کرتے ہیں جس کی وجہ سے انفراریڈ اور ریڈیو لہریں بھی پیدا ہوتی ہیں، جو خلا کے مشاہدات کو مزید مشکل بناتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹس کو کم مدار میں بھیجا جائے تاکہ ان کی روشنی ٹیلی اسکوپوں کو کم متاثر کرے، تاہم اس سے اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔















