نیشنل سٹیزن پارٹی کو بنگلادیش میں انتخابی مشکلات، مالی قلت اور غیر واضح پالیسیوں کا سامنا ہے۔
ڈھاکہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بنگلادیش میں طلبہ کی جانب سے حکمران شیخ حسینہ کو ہٹانے کے بعد قائم کی گئی نیشنل سٹیزن پارٹی اپنی مقبولیت کو ووٹوں میں بدلنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ پارٹی مالی قلت اور غیر واضح پالیسیوں کے باعث انتخابی میدان میں کمزور نظر آتی ہے جبکہ اگلے سال فروری میں ہونے والے انتخابات کے قریب یہ چیلنج بڑھ گیا ہے۔
پارٹی کے سربراہ ناہید اسلام نے بتایا کہ تنظیم کی کمزوری کی وجہ کافی وقت نہ ہونا ہے۔ نیشنل سٹیزن پارٹی 300 نشستوں پر انتخابات لڑنے کا ارادہ رکھتی ہے، لیکن حالیہ رائے شماری میں اسے صرف 6 فیصد حمایت ملی، جو سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی بنگلادیش نیشنل پارٹی کے 30 فیصد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ تنظیمی ڈھانچے کی کمزوری، مالی قلت اور خواتین و اقلیتی حقوق پر غیر واضح پالیسیوں کی وجہ سے پارٹی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ نیشنل سٹیزن پارٹی دیگر پارٹیوں جیسے بنگلادیش نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے ساتھ اتحاد کے امکانات پر غور کر رہی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے پارٹی کی انقلابی شبیہ متاثر ہو سکتی ہے۔















