پاکستانی برآمدات کو بچانے کے لیے کمپنیوں کو یورپی یونین جیسے بازاروں کے نئے مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز)یورپی یونین کی منڈیوں کے نئے تقاضے پورے نہ کیے گئے تو پاکستان کی 70 فیصد برآمدات خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ یہ انتباہ عالمی بینک کی ماہرِ اقتصادیات اینا ٹوم نے منگل کو تبادلہ کے پروگرام “تجارت، محصولات اور آگے” میں دیا۔
مزدوری معیارکے حوالے سے رپورٹنگ کی بڑی شرط
اینا ٹوم کے مطابق یورپی یونین اب برآمدی کمپنیوں سے مزدوری کے معیارات، ان کی رپورٹنگ اور ان کے ثبوت مانگے گی، اور اس حوالے سے پاکستان کی تیاری ناکافی ہے۔
پاکستان سنگل ونڈو کے سی ای او و شریک بانی آفتاب حیدر نے بھی کہا کہ پاکستان کو سب سے بڑی رکاوٹیں غیر رسمی معیشت کے بڑے حجم، قومی ٹیکس نمبر کی عدم دستیابی اور کسانوں میں کم ڈیجیٹل خواندگی کی وجہ سے درپیش ہیں۔ ان کے مطابق یورپی اسٹینڈرڈز کا نفاذ جلد لازم ہونے والا ہے لیکن پاکستان ابھی اس سطح تک نہیں پہنچ سکا۔
عالمی طلب میں تبدیلی، ٹیکسٹائل کا مستقبل
وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا صدیقی نے اپنے پیغام میں بتایا کہ امریکہ پاکستان کی 5–6 ارب ڈالر کی برآمدات خریدتا ہے جن میں زیادہ تر ہوم ٹیکسٹائل شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں اب طلب مصنوعی فائبرز سے بنے اسپورٹس ویئر اور جنریشن زی کے ملبوسات کی طرف بڑھ رہی ہے، جبکہ بنگلہ دیش اور ویتنام اس شعبے میں تیزی سے آگے نکل چکے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو اب بیڈ شیٹس اور روایتی مصنوعات سے آگے بڑھ کر اسپورٹس ویئر اور جدید فیشن مصنوعات کی طرف جانا پڑے گا، جہاں مستقبل کی طلب اور زیادہ منافع موجود ہے۔
کمزور برآمدی ڈھانچہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی برآمدات کی گرتی صورتحال کوئی نئی بات نہیں۔ پاکستان نے ویتنام کی طرح عالمی ویلیو چینز میں شمولیت نہیں اختیار کی اور ملکی برآمدات آج بھی ٹیکسٹائل، اناج اور کاٹن تک محدود ہیں، جبکہ بڑے خریدار صرف امریکہ، یورپی یونین اور چین ہیں۔
اینا ٹوم نے کہا کہ پاکستان کے زیادہ تر آزاد تجارتی معاہدے صرف محصولاتی نرمی تک محدود رہے اور انہوں نے سرمایہ کاری یا علم کی منتقلی میں کوئی بڑا کردار ادا نہیں کیا۔
پیچیدہ ٹیکس نظام اور سرمایہ کاری کی رکاوٹ
سابق چیئرپرسن نیشنل ٹیرف کمیشن روبینہ اطہر کے مطابق ایک وقت میں 43 فیصد ایف بی آر کی آمدنی تجارتی ٹیکسوں سے آتی تھی، جبکہ پاکستان کا پیچیدہ اور بدلتا ہوا محصولاتی نظام سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کرتا ہے۔
اسی لیے ماہرین کے نزدیک قومی ٹیرف پالیسی میں اصلاحات درست سمت کی جانب قدم ہیں۔
اینا ٹوم نے کہا کہ اگرچہ حالیہ معاشی استحکام مثبت ہے، لیکن ملک کی طویل المدت ترقی کے لیے برآمدات کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔
ان کے مطابق پاکستان کی برآمدی صلاحیت جی ڈی پی کے 26 فیصد تک ہو سکتی ہے، یعنی تقریباً 60 ارب ڈالر، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے اور برآمدات کا تناسب مسلسل گر رہا ہے۔













