کراچی میں دودھ کے تمام نمونے انسانی صحت کے لیے غیر موزوں قرار

کراچی میں دودھ کے تمام نمونے انسانی صحت کے لیے غیر موزوں قرار دیے گئے، فارملین اور فاسفیٹ کی موجودگی نے ملاوٹ کی نشاندہی کی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی نے کراچی سے جمع کیے گئے تمام دودھ کے نمونے انسانی استعمال کے لیے غیر موزوں قرار دیے ہیں۔سندھ ہائی کورٹ میں کراچی کمشنر کی پیش کی گئی  رپورٹ کے مطابق 22 نمونوں میں فارملین اور 8 میں فاسفیٹ کی موجودگی نے دودھ میں وسیع پیمانے پر ملاوٹ کی نشاندہی کی۔

رپورٹ کے مطابق تازہ دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کا کوئی جواز نہیں تھا، خاص طور پر سردیوں میں دودھ کی مصنوعات کی کھپت میں کمی کی وجہ سے۔ کمشنر نے مزید کہا کہ دودھ کی قیمتوں کی نظرثانی کے لیے عدالتی ہدایات کی روشنی میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کی گئیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ دودھ کے نمونوں کی کوالٹی چیکنگ کا عمل دودھ فروش ایسوسی ایشن کی درخواست پر کیا گیا اور اسے پی ایس کیو سی اے کو بھیجا گیا۔ پی ایس کیو سی اے نے تمام نمونوں کو انسانی استعمال کے لیے غیر موزوں قرار دیا۔

کمشنر نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ملاوٹ کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے دودھ فروشوں کی تنظیموں کو مشترکہ معیاری آپریٹنگ طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ صفائی ستھرائی کو یقینی بنایا جا سکے۔

دریں اثنا، 27 نومبر کو ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں تازہ دودھ کی زیادہ سے زیادہ قیمت 220 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی اور تمام تنظیموں کو ہدایت کی گئی کہ وہ نوٹیفائی کردہ نرخوں کی پابندی کریں اور معیار کو یقینی بنائیں۔

دیگر متعلقہ خبریں