سہیل آفریدی کی احتجاجی کال مگر وہ خوداڈیالہ جیل کیوں نہ پہنچے؟

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے احتجاج کی کال دی مگر خود شامل نہ ہونے پر تنقید کی زد میں آ گئے، کارکنان نے سوالات اٹھائے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

راولپنڈی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر گزشتہ جمعہ احتجاج کی کال دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ وہ علیمہ خان کے ساتھ خود اڈیالہ جیل جائیں گے، تاہم آج احتجاج میں شامل نہ ہونے پر انہیں شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ان کی غیرحاضری نے پی ٹی آئی کارکنوں اور اپوزیشن میں یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آخر احتجاج کی کال دینے کے باوجود وہ اسلام آباد کیوں نہیں پہنچے۔

احتجاج کی کال کے باعث اسلام آباد اور راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی، اسلام آباد ہائیکورٹ اور اڈیالہ جیل کے اطراف رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ پی ٹی آئی کارکنان نے عدالت کے باہر ’ہے حق ہمارا آزادی‘ کے نعرے لگائے جبکہ اڈیالہ کے قریب کاروباری مراکز بھی بند کر دیے گئے۔

صوبائی وزیر شفیع جان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ احتجاج میں شریک نہیں ہوں گے کیونکہ وہ پشاور میں موجود ہیں اور صوبائی امور دیکھ رہے ہیں۔ ان کی عمران خان سے ملاقات جمعرات کو طے ہے، لہٰذا وہ اسی دن اسلام آباد جائیں گے۔

یہ فیصلہ سوشل میڈیا پر تنازعہ کا باعث بنا۔ صارفین نے اعتراض کیا کہ جب وزیراعلیٰ نے خود لوگوں کو اسلام آباد آنے کا کہا تو وہ خود کیوں پیچھے ہٹ گئے؟ کچھ نے اسے غیرسنجیدگی قرار دیا اور کہا کہ زیادہ لوگ جمع ہوتے تو دباؤ بڑھ سکتا تھا۔

عمران خان گزشتہ دو سال سے اڈیالہ میں قید ہیں اور مختلف مقدمات میں سزا یافتہ ہیں، جبکہ پی ٹی آئی مسلسل ان کی رہائی کے لیے احتجاج کرتی رہی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں