کراچی میں ٹریفک انجینئرنگ کی ذمہ داری مختلف اداروں کے درمیان بٹی ہوئی ہے، جس سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ حکومت نیا ادارہ قائم کرنے پر غور کر رہی ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سندھ حکومت ای-چالان کے سخت نفاذ پر زور دے رہی ہے، جبکہ ٹریفک انجینئرنگ کی ذمہ داری مختلف اداروں میں بٹی ہوئی ہے، جس کے باعث کراچی میں ٹریفک کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایک مشترکہ ٹریفک انجینئرنگ اتھارٹی کی غیر موجودگی ٹریفک مسائل کے حل میں رکاوٹ بن رہی ہے، جس کے باعث شہر کے ٹریفک کو مختلف گرڈ لاک میں پھنسنے سے بچایا نہیں جا سکا۔
کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے ٹریفک انجینئرنگ بیورو (ٹی ای بی)، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (ایس ایم ٹی اے) اور کنٹونمنٹ بورڈز کے درمیان ٹریفک انجینئرنگ اور انتظامی ذمہ داریاں بٹی ہوئی ہیں، جس سے واضح جواب دہی اور ہم آہنگی کا فقدان ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت کراچی ٹریفک مینیجمنٹ کمپنی کے قیام پر غور کر رہی ہے، جو پورے شہر کی ٹریفک انجینئرنگ کی ذمہ داریاں سنبھالے گی اور نئے سگنلز کی تنصیب، سڑکوں اور لین مارکنگ کا کام کرے گی۔
مزید برآں، سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے مختلف مقامات پر 11 نئے ٹریفک سگنلز نصب کیے ہیں اور کئی ٹریفک سائن بورڈز بھی لگائے ہیں۔














