سینیٹ کمیٹی نے سندھ کے پانی اور آبپاشی منصوبوں میں تاخیر اور اضافی اخراجات پر تشویش کا اظہار کیا، ملتان سٹی بحالی منصوبے کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور نے سندھ کے پانی اور آبپاشی سے متعلق غیر ملکی فنڈڈ منصوبوں میں تاخیر، اضافی اخراجات اور خریداری کے قواعد کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کی، جس میں ملتان سٹی کی بحالی، سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن منصوبہ اور سندھ بیراجز امپرومنٹ منصوبہ سمیت متعدد اسکیموں کا جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملتان کے تاریخی علاقے کی بحالی کے لیے 2011 میں 850 ملین روپے جاری کیے گئے تھے، جن میں سے 170 ملین روپے ایک کنسلٹنسی فرم کو سروے اور جائزہ رپورٹ کے لیے ادا کیے گئے، تاہم منصوبہ اب تک شروع نہیں ہو سکا۔ سینیٹر روبینہ خالد اور کامران مرتضیٰ نے سوال اٹھایا کہ وفاقی فنڈڈ منصوبہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر صوبے کو کیسے منتقل کیا گیا۔
ای اے ڈی حکام نے بتایا کہ 2010 میں قائم منیجمنٹ کمیٹی کو 2015 میں صوبائی سطح پر منتقل کیا گیا تھا۔ سینیٹر ابڑو نے سوال کیا کہ وزیر اعظم کی سطح پر بنائی گئی کمیٹی کو وزیراعلیٰ کی سطح پر کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے فیز ون کی فزیبلٹی رپورٹ نہ ہونے اور 170 ملین روپے ایک ہی فرم کو دینے پر بھی اعتراض اٹھایا۔
کمیٹی نے منصوبہ ڈائریکٹر کے عدم تیاری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیز ون کی فزیبلٹی رپورٹ دو روز میں جمع کرانے کی ہدایت کی۔ کمیٹی نے ملتان ہیریٹیج اسکیم کے تحت ہر سائٹ کی تفصیل، اخراجات، استعمال شدہ رقم اور مکمل شدہ کام کی شرح فراہم کرنے کا بھی حکم دیا۔
اجلاس میں ورلڈ بینک فنڈڈ منصوبوں، 300 ملین ڈالر کے ایس ڈبلیو اے ٹی اور 200 ملین ڈالر کے ایس بی آئی پی، پر بھی غور کیا گیا۔ سندھ حکومت کی جانب سے بریفنگ مواد نہ ملنے پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا اور ای اے ڈی کو سندھ کے چیف سیکرٹری کے ذریعے مواد حاصل کرنے کی ہدایت کی۔
ایس ڈبلیو اے ٹی منصوبے کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ منصوبہ پانچ حصوں پر مشتمل ہے، تاہم ادائیگیاں مکمل نہیں ہو سکیں اور سروے کی بنیاد پر تیار کی جانے والی نظرثانی شدہ فزیبلٹی رپورٹ بھی آخری مراحل میں ہے۔














