پاکستانی ترقیاتی ماڈل 25 کروڑ آبادی کو سنبھالنے میں ناکام

اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ معاشی ماڈل 25 کروڑ آبادی کے تقاضے پورے نہیں کر سکتا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کا موجودہ معاشی ترقیاتی ماڈل 25 کروڑ سے زائد آبادی کے تقاضے پورے کرنے کے قابل نہیں رہا۔ وہ پاکستان بزنس کونسل کے ‘معیشت پر مذاکرات’ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی معاشی نمو گزشتہ تین دہائیوں سے مسلسل تنزلی کا شکار ہے، جو 30 سال کے اوسط 3.9 فیصد سے کم ہو کر گزشتہ پانچ سال میں صرف 3.4 فیصد پر آ گئی ہے۔

گورنر نے کہا کہ موجودہ ماڈل ملک کو طویل مدتی استحکام فراہم نہیں کر سکتا اور طویل عرصے سے جاری اقدامات نے عوام اور کاروباری طبقے کو بھاری ٹیکسوں اور مہنگی توانائی کے ذریعے متاثر کیا ہے۔ بے روزگاری 21 سال کی بلند ترین سطح 7.1 فیصد پر پہنچ چکی ہے جبکہ عالمی بینک کے مطابق غربت کی شرح 44.7 فیصد ہے۔

جمیل احمد نے کہا کہ ملک ایک ‘انفلیکشن پوائنٹ’ پر کھڑا ہے جہاں فوری طور پر قلیل مدتی استحکام سے ہٹ کر دیرپا اور جامع معاشی نمو کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پالیسی سازوں کو طویل المدتی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کاروباری طبقے کو خبردار کیا کہ وہ مختصر منافع کے لالچ میں مستقبل کی مسابقت کو قربان نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر مضبوط، پائیدار اور بیرونی دنیا سے مربوط معاشی نمو کے ماڈل پر منتقل ہونا چاہیے۔ ملک بار بار معاشی نمو اور استحکام کے تکلیف دہ اقدامات کے ادوار سے گزر چکا ہے اور موجودہ حالات طویل مدتی تبدیلی لانے کا حقیقی موقع فراہم کرتے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں