پاکستان کا 6 ارب ڈالر کا ریفائنری اپ گریڈ پروگرام ایک بار پھر تعطل کا شکار

پاکستان کا 6 ارب ڈالر کا ریفائنری اپ گریڈ پروگرام آئی ایم ایف کی تجاویز مسترد ہونے کے بعد تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان کا 6 ارب ڈالر کا ریفائنری اپ گریڈ پروگرام ایک بار پھر تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ٹیکس ماہرین نے پیٹرولیم ڈویژن کی تجاویز مسترد کر دی ہیں، جس سے آئل سیکٹر میں سرمایہ کاری تقریباً رک چکی ہے۔ حکام کے مطابق مالیاتی بل 2025 میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر مصنوعات پر سیلز ٹیکس چھوٹ نے ریفائنریز کو ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ سے محروم کر دیا تھا، جس سے بحران پیدا ہوا۔

آئی ایم ایف کے ماہرین نے کسی قسم کی رعایت دینے سے انکار کیا ہے، جس کے بعد کم از کم اگلے بجٹ تک اپ گریڈ منصوبے آگے بڑھنے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔ فنڈ نے تمام پیٹرولیم مصنوعات پر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کرنے کا مطالبہ کیا، جس سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 50 روپے فی لیٹر بڑھنے کا خدشہ ہے، جو سیاسی طور پر قابلِ قبول نہیں۔

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات اور اپ گریڈ مشینری پر 0 سے 3 فیصد جی ایس ٹی کی تجویز دی تھی، تاہم آئی ایم ایف نے اسے مسترد کر دیا۔ فنڈ نے مکمل جی ایس ٹی لگانے اور پیٹرولیم لیوی کم کرنے کی تجویز دی، مگر حکومت نے اختلاف کیا کیونکہ جی ایس ٹی صوبوں کے ساتھ شیئر ہوتی ہے، جبکہ لیوی وفاق کا اہم ریونیو ذریعہ ہے۔

حکومت نے قلیل مدتی ریلیف کے طور پر ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن میں 1.87 روپے فی لیٹر اضافہ کیا، تاکہ ریفائنریز کو 35 ارب روپے کے نقصان کا کچھ حصہ واپس مل سکے، مگر ریفائنرز نے اس اقدام کو ناکافی قرار دیا ہے۔

یہ تعطل 2023 کی براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی کے لیے بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہے، جس کا مقصد سات برس میں مقامی ریفائنریز کو یورو-5 معیار تک لانا ہے۔ حکومت اب نئی براؤن فیلڈ پالیسی پر کام کر رہی ہے جو توانائی کمیٹی کو پیش کی جائے گی، جس میں درآمدی مشینری پر سیلز ٹیکس چھوٹ اور دیگر اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں