ایتھوپیا کے آتش فشاں کی راکھ پاکستان پہنچ گئی، فضائی سفر متاثر

ایتھوپیا میں آتش فشاں پھٹنے سے پاکستان سمیت کئی ممالک کی فضائی آمد و رفت متاثر، راکھ کے بادل 15 کلومیٹر تک بلند ہوگئے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایتھوپیا کے شمالی علاقے میں 12 ہزار سال سے خاموش آتش فشاں اچانک پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں راکھ کے بادل تقریباً 15 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچ گئے اور یمن، عمان، بھارت اور پاکستان تک پھیل گئے، جس سے فضائی آمد و رفت اور زرعی سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ یہ آتش فشاں افریقی اور عربی ٹیکٹونک پلیٹوں کے دباؤ کے باعث متحرک ہوا۔ امریکی جیولوجیکل سروے اور مقامی حکام کے مطابق، اس دھماکے کے بعد علاقے کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے، تاہم فوری طور پر جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر کے مطابق، پاکستان کی فضائی حدود میں بھی اس آتش فشاں کی راکھ کے اثرات محسوس کیے گئے ہیں، اور گوادر کے جنوب میں تقریباً 60 ناٹیکل میل کے فاصلے پر راکھ کے بادل موجود ہیں۔ فلائٹ آپریشن معمول کے مطابق رہے گا، مگر مسلسل نگرانی جاری ہے۔

امریکی اور برطانوی ماہرین نے اس واقعے کو غیر معمولی قرار دیا ہے، کیونکہ اس خطے میں آتش فشانی سرگرمی کم دیکھی جاتی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ زمین کی گہرائی میں موجود میگما کے پگھلاؤ کے عمل سے یہ آتش فشاں متحرک ہوا۔

مقامی حکام نے بتایا ہے کہ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم راکھ کے باعث قرب و جوار کے دیہات متاثر ہوسکتے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں