امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے اسے ‘ہر مجدون’ کا آغاز قرار دیا، جس پر امریکی فوج میں تقسیم پیدا ہو گئی ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو مذہبی رنگ دیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ کا مقصد ایران کی ایٹمی صلاحیت کا خاتمہ بتایا ہے، مگر اوول آفس میں مسیحی پادریوں کے ساتھ دعا کا اہتمام کیا گیا ہے۔
عالمی میڈیا نے اس دعا کی تصویر نشر کی ہے جس میں پادری گریگ لاری سمیت دیگر مذہبی لیڈر ٹرمپ کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی کی دعا کر رہے ہیں۔ یہ مذہبی رہنما امریکیوں کو ظہور دجال سے پہلے ایک بڑی جنگ کے لیے تیار کر رہے تھے جسے ‘ہر مجدون’ کہا جاتا ہے۔
مذہب کارڈ نے امریکی فوج میں بھی تقسیم پیدا کر دی ہے، جہاں پندرہ فوجیوں نے شکایت درج کرائی ہے کہ کمانڈرز نے ٹرمپ کے ایران پر حملے کو مذہبی اشارہ قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کی اس جنگ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کے پیچھے ایران میں رجیم چینج کی ناکامی کو چھپانے کی کوشش نظر آتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کو ‘ہر مجدون’ کا آغاز قرار دیا ہے، جس کا فائدہ انتہا پسندوں کو ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر کا یہ مذہب کارڈ انتہا پسندوں کے فائدے میں جا سکتا ہے جبکہ امریکی عوام اس جنگ کو ‘ہر مجدون’ نہیں سمجھتے۔













