ایران نے امریکا اور اسرائیل پر مشترکہ فوجی کارروائیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے جواب میں دفاعی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس کی دفاعی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک جارحیت ختم نہیں ہو جاتی یا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آرٹیکل 39 کے تحت حملہ آوروں کی نشاندہی کر کے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی۔
ایران نے کہا ہےکہ 28 فروری 2026 سے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیاں جاری ہیں، جن میں ایران کے سپریم لیڈر اور متعدد اعلیٰ حکام کی ہلاکت سمیت فوجی اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ایران نے ان کارروائیوں کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کے حق کا استعمال کر رہا ہے، اور اس جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہا ہے۔
Statement
In the Name of God, the Most Gracious, the Most Merciful
The joint military aggression by the #ZionistRegime and the #UnitedStates of America against the Islamic Republic of Iran, which began on February 28, 2026, with the martyrdom of the Supreme Leader of the… https://t.co/DtOcSlYLwt
— Foreign Ministry, Islamic Republic of Iran (@IRIMFA_EN) March 7, 2026
علاوہ ازیں، ایران نے بین الاقوامی قانون کے تحت کسی بھی ریاست کو دوسرے ملک کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینے پر قانونی ذمہ داری کی طرف اشارہ کیا ہے اور نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
حالیہ کشیدگی کے بعد مشرق وسطیٰ میں فوجی تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور متعدد ممالک نے خطے کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔












