کراچی سے نکاح کے لیے حیدرآباد آنے والے نوجوان کو دھوکہ دیا گیا۔ رقم اور کپڑے لے کر دلہن اور ساتھی فرار ہو گئے۔
حیدرآباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کراچی سے نکاح کے لیے آنے والے نوجوان کو حیدرآباد میں دھوکہ دیا گیا۔ محمد عثمان، جو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کا رہائشی ہے، اپنے والدین کے ہمراہ شادی کے لیے حیدرآباد آیا تھا۔
پولیس کے مطابق، واقعہ تھانہ جی او آر کی حدود میں پیش آیا جہاں رانی نامی خاتون نے عثمان کی والدہ سے رابطہ کیا اور ندا نامی لڑکی سے شادی طے کی۔ عثمان اپنے والدین کے ہمراہ طے شدہ تاریخ پر حیدرآباد پہنچا اور نکاح کی تیاریاں شروع ہوئیں۔
غربت کا ذکر کرنے پر لڑکی کے مبینہ والدین نے شادی کے سامان کے لیے ڈھائی لاکھ روپے اور دو لاکھ روپے مالیت کے کپڑے مانگے، جو انہیں دے دیے گئے۔ تاہم، رقم اور کپڑے لینے کے بعد لڑکی اور اس کے ساتھی غائب ہو گئے۔
متاثرہ خاندان کو معلوم ہوا کہ یہ لوگ نکاح کے نام پر دھوکہ دینے والے گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ پولیس نے عثمان کی درخواست پر مقدمہ درج کر کے تین خواتین کو گرفتار کر لیا اور مزید ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔














