آبنائے ہرمز بحران، پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کو توانائی خدشات کا سامنا

آبنائے ہرمز کے بحران نے پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کو توانائی کی ممکنہ رکاوٹوں سے شدید خدشات میں مبتلا کر دیا ہے، جس سے پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
آبنائے ہرمز بحران: پاکستانی ٹیکسٹائل صنعت کو توانائی خدشات

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگ کے بعد آبنائے ہرمز میں جاری جغرافیائی بحران نے پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو توانائی کی سپلائی میں ممکنہ تعطل سے شدید خدشات میں مبتلا کر دیا ہے۔

ملک کی سب سے بڑی برآمدی صنعت نے کہا ہے کہ تیل اور ایل این جی کی ترسیل میں رکاوٹوں کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے صنعتی پیداوار اور برآمدی مسابقت متاثر ہو سکتی ہے۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے 4 مارچ 2026 کو وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان کو خط میں کہا ہے کہ بحران کے دوہرے اثرات نظر آ رہے ہیں۔ کارگوبکنگ بند ہونے سے یو اے ای، عمان، عراق، کویت، قطر اور بحرین شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ توانائی درآمدات کی ڈالر لاگت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ پیداواری لاگت میں اضافہ برآمدی صنعتوں کو دباؤ میں ڈال رہا ہے۔

اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد نے کہا کہ حتیٰ کہ اگر علاقائی کشیدگی کم بھی ہو جائے تو توانائی کی سپلائی چین اور قیمتوں میں کئی ماہ تک اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں