سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل کی ممانعت

وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل کی ممانعت کی تصدیق کی، قانونی جنگ کا اختتام ضروری قرار دیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے پر متوازی اپیل کی ممانعت

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے اعلان کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کے بعد آئینی عدالت میں متوازی اپیل دائر نہیں ہو سکتی۔ عدالت نے ستائیسویں آئینی ترمیم کے باوجود سپریم کورٹ کے فیصلوں پر نگرانی یا اپیل سننے کا اختیار نہ ہونے کی تصدیق کی۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں واضح کیا کہ آئین لامتناہی مقدمہ بازی کی اجازت نہیں دیتا اور قانونی جنگ کا اختتام ضروری ہوتا ہے۔ عدالت کے مطابق زمین کے معاوضے کا تنازعہ عوامی اہمیت کا حامل نہیں بلکہ نجی معاملہ ہے۔

چیف جسٹس امین الدین خان نے سپریم کورٹ کے 12 ستمبر 2024 کے حکم کے خلاف دائر نظرثانی درخواست مسترد کر دی۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ 2015 میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تھا جسے 2022 میں 2 رکنی بینچ نے تبدیل کر دیا۔

مقدمہ درخواست گزار اور ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے درمیان زمین کے معاوضے سے متعلق تھا۔ عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ میں دائر نظرثانی درخواست پہلے ہی خارج ہو چکی ہے اور حتمی فیصلے کو اصلاحی نظرثانی کے نام پر دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔

دیگر متعلقہ خبریں