پاک افغان سرحد پر آپریشن غضب للحق میں 72 طالبان ہلاک، 12 چوکیاں تباہ کر دی گئیں۔
پاک افغان سرحد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاک افغان سرحد پر بڑھتی کشیدگی کے بعد پاکستان نے “آپریشن غضب للحق” شروع کر دیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے مختلف سرحدی مقامات پر بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ اب تک 133 افغان طالبان جنگجو ہلاک جبکہ 100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ 27 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی گئیں اور 12 پر پاکستانی فورسز نے کنٹرول حاصل کر لیا۔
سرحدی سیکٹرز میں جھڑپیں
سکیورٹی ذرائع کے مطابق فائرنگ کے واقعات ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر، چترال، مہمند اور کرم کے علاقوں میں پیش آئے۔ چترال سیکٹر میں ایک افغان چیک پوسٹ کو نشانہ بنا کر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ مہمند کے گرسال سیکٹر میں بھی کارروائی جاری رہی جہاں مزید 3 جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔ باجوڑ میں 2 چوکیاں تباہ کی گئیں جبکہ کرم سیکٹر کے قریب کئی ٹھکانے نشانہ بنائے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ موثر جوابی حملوں کے نتیجے میں دشمن کی عسکری صلاحیت کو نقصان پہنچا ہے۔ 30 سے زائد ٹینک، آرٹلری گنز اور بکتر بند گاڑیاں تباہ کرنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق 3 افغانی بٹالین اور ایک سیکٹر ہیڈکوارٹر کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
فضائی کارروائی اور ڈرون حملے
ننگرہار میں ایک بڑے ایمونیشن ڈیپو کو فضائی کارروائی میں تباہ کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق پاک فضائیہ نے مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا اور مزید کارروائیاں جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کی کوشش کی، تاہم بروقت کارروائی کے نتیجے میں تمام کواڈ کاپٹرز مار گرائے گئے۔ پاکستانی فورسز نے ڈرونز کے ذریعے بھی اہداف کو نشانہ بنایا۔
شہری آبادی متاثر
سرحدی کشیدگی کے اثرات شہری آبادی تک بھی پہنچے۔ باجوڑ کے علاقے لغڑئی اور گردونواح میں مارٹر گولے گرنے سے 5 افراد زخمی ہوئے جن میں 3 خواتین شامل ہیں۔ زخمیوں کو خار اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
ایک مسجد کو بھی شیلنگ سے نقصان پہنچنے کی اطلاع ملی ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سیاسی قیادت کا ردعمل
وزیراعظم شہباز شریف نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افواج جارحانہ عزائم کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ملک کے امن پر آنچ نہیں آنے دیں گی۔
وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن کا حقیقت سے تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی جارحیت کا مؤثر جواب دیا جا رہا ہے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کا حامی ہے، تاہم کسی بھی حملے کا جواب دیا جائے گا۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سرحدی صورتحال کے تناظر میں قومی سلامتی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی سکیورٹی فورسز کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
وزیراعظم کے ترجمان برائے فارن میڈیا مشرف زیدی نے کہا کہ 72 جنگجو ہلاک اور 120 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق متعدد چوکیاں تباہ کی گئیں اور 7 پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم حکام نے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔















