آئی ایم ایف کی رپورٹ میں شوگر ملز مالکان کی چینی قیمتوں پر اثر اندازی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) آئی ایم ایف کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ شوگر ملز مالکان نے چینی کی قیمتوں اور برآمدات کی پالیسیوں پر اثر ڈال کر اپنے مفاد کے لیے مصنوعی قلت پیدا کی۔
آئی ایم ایف نے پاکستان میں بدعنوانی اور گورننس کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں وفاقی سطح پر بدعنوانی کے خدشات کا اظہار کیا گیا ہے اور 15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا فوری نافذ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، شوگر ملز مالکان نے سرکاری عہدوں پر بیٹھ کر مسابقتی قیمتوں کو منافع بخش بنایا اور چینی کی برآمدات اور قیمتوں کے تعین کی پالیسیوں پر اثر ڈالا۔ وافر ذخیرہ ہونے کے باوجود، مالکان نے مصنوعی قلت اور قیمتوں میں ہیرا پھیری کے لیے ملی بھگت کی۔
آئی ایم ایف رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی 2019 میں چینی برآمد کی اجازت اشرافیہ کے مفاد کے لیے پالیسیوں پر قبضہ ظاہر کرتی ہے۔ چینی کی تحقیقاتی رپورٹ میں سیاسی ہیوی ویٹ کو مجرم قرار دیا گیا ہے اور اس بات کی تصدیق کی گئی کہ برآمدی دباؤ سے چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
رپورٹ میں حکومتی ٹھیکوں میں خصوصی مراعات ختم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں چینی کی قیمت فی کلو 180 سے 195 روپے تک پہنچ گئی ہے۔













