پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے اجرا میں ریگولیٹری رکاوٹوں کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے، جس سے دیہی براڈبینڈ اور صنعتی انٹرنیٹ آف تھنگز متاثر ہو رہے ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے آغاز میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے، جس کا سبب ریگولیٹری رکاوٹیں ہیں۔ کم مدار والے سیٹلائٹ آپریٹرز نے حکومت کو اس تاخیر کی ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جس کی وجہ سے دیہی براڈبینڈ اور صنعتی انٹرنیٹ آف تھنگز کی توسیع متاثر ہو رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے جیو اسٹیشنری سیٹلائٹس پر بڑی سرمایہ کاری کی ہے، لیکن کم مدار والے سیٹلائٹس کی عالمی طلب میں اضافے کے باوجود ملک اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔ بین الاقوامی کمپنیاں جیسے Starlink اور OneWeb پاکستان میں خدمات فراہم کرنے کی خواہاں ہیں، مگر ریگولیٹری منظوری کے منتظر ہیں۔
صنعتی ماہرین کے مطابق یہ تاخیر دیہی علاقوں میں مواصلاتی خدمات، قدرتی آفات کے دوران رابطہ کاری، اور صنعتی شعبے میں انٹرنیٹ آف تھنگز کے فروغ میں رکاوٹ ہے۔ جبکہ دنیا بھر میں سیٹلائٹ براڈبینڈ کو قومی لچک کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق کم مدار اور جیو مدار سیٹلائٹس ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، جہاں جیو سیٹلائٹس وسیع کوریج فراہم کرتے ہیں اور کم مدار سیٹلائٹس تیز رفتار براڈبینڈ مہیا کرتے ہیں۔ اس تاخیر کا ایک ممکنہ سبب مقامی جیو سیٹلائٹ سرمایہ کاری کا تحفظ ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے خلائی اور مواصلاتی اداروں میں تکنیکی مہارت کی کمی ریگولیٹری ڈھانچے اور پالیسی سازی پر اثر انداز ہو رہی ہے، جبکہ عالمی سطح پر سیٹلائٹ براڈبینڈ کو کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور دیگر خدمات کے ساتھ مربوط کیا جا رہا ہے۔















