پاکستان-افغان دہشت گردی روکنے پر مذاکرات ناکام

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی روکنے پر مذاکرات ناکام ہوگئے، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ڈنمارک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جنوبی اور وسطی ایشیا میں ایک سنگین خطرہ ہے اور انہیں افغان حکام کی حمایت حاصل ہے۔ اقوام متحدہ میں ڈنمارک کی نائب مستقل نمائندہ ساندرا جینسن لینڈی نے کہا کہ ٹی ٹی پی کے تقریباً 6,000 جنگجو ہیں اور انہیں افغان حکام سے لاجسٹک اور کافی مدد مل رہی ہے۔

پاکستان کے اقوام متحدہ میں نائب مستقل نمائندہ عثمان جدون نے کہا کہ عالمی دہشت گردی تیزی سے بدل رہی ہے اور پاکستان نے اس خطرے کو روکنے کے لیے بڑے پیمانے پر قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے خطرے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی روکنے کے لیے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ اکتوبر میں دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بعد مذاکرات کا آغاز ہوا تھا۔ تاہم، نومبر میں ہونے والے مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ مذاکرات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ افغانستان نے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات معطل کر دیے ہیں، جبکہ پاکستان نے بھی اکتوبر کی جھڑپوں کے بعد تجارتی سرحد بند کر دی تھی۔

دیگر متعلقہ خبریں