پاکستان نے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے کے لیے 600 ملین ڈالر کا قلیل مدتی قرض اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک سے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان نے زرمبادلہ ذخائر کو سہارا دینے کے لیے 600 ملین ڈالر کا قلیل مدتی قرض لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سہولت لندن سے اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک فراہم کرے گا اور اس کی مدت 6 سے 9 ماہ ہوگی۔
یہ ٹریڈ فنانس سہولت تقریباً 6.3 فیصد شرح سود پر حاصل کی جا رہی ہے جبکہ حکومت متحدہ عرب امارات سے حاصل کردہ 3.5 ارب ڈالر قرض پر اس سے زیادہ لاگت ادا کر رہی ہے۔ نئی سہولت پر شرح سود محفوظ اوور نائٹ فنانسنگ ریٹ کے ساتھ 2.6 فیصد اضافے کے برابر ہوگی۔
معاہدے پر دستخط کے بعد حکومت درآمدی خام تیل اور گیس کی ادائیگیوں کے لیے یہ رقم استعمال کر سکے گی۔ وزارت خزانہ کے ترجمان نے اس معاملے پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔
رواں مالی سال میں حکومت نے 3.1 ارب ڈالر کے غیر ملکی کمرشل قرضوں کا ہدف رکھا تھا، تاہم پہلے 6 ماہ میں صرف 54 ملین ڈالر موصول ہو سکے۔ اسی دوران چائنا ڈیولپمنٹ بینک کا 700 ملین ڈالر قرض واپس کرنے کے بعد اسٹیٹ بینک کے مجموعی ذخائر 15.5 ارب ڈالر تک گر گئے۔
حکومت کو توقع ہے کہ جون میں 700 ملین ڈالر کی ری فنانسنگ کے ساتھ مزید 1 ارب ڈالر کمرشل قرض کی تجدید ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ پانڈا بانڈ کے اجرا سے 250 ملین ڈالر حاصل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں برآمدات میں 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 41 فیصد کم ہو کر 981 ملین ڈالر رہ گئی۔ حکومت کا ہدف جون تک سرکاری زرمبادلہ ذخائر 18 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچانا ہے۔
واضح رہے کہ مجموعی طور پر 26 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کے ہدف میں سے اب تک 5.7 ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں، جن میں آئی ایم ایف کی فنانسنگ بھی شامل ہے۔















