اسلام آباد کلب کی ممبرشپ قوانین میں تبدیلی کی سفارش کی گئی تاکہ ایک سے زائد بیویوں کو بھی ممبرشپ دی جا سکے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے اسلام آباد کلب کی رکنیت کے قواعد میں تبدیلی کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ اگر کسی رکن کی ایک سے زائد شادیاں ہیں، تو تمام بیویوں کو ممبرشپ دی جائے۔ کلب کی انتظامیہ نے رولز میں ترمیم کی یقین دہانی کرائی ہے۔
پیر کو اسلام آباد کلب میں منعقدہ اجلاس کی صدارت چیئرمین ملک ابرار احمد نے کی۔ اجلاس کے دوران رکن قومی اسمبلی آغا رفیع اللہ نے معاملہ اٹھایا کہ کلب پالیسی کے تحت صرف ایک بیوی کو ممبرشپ دی جاتی ہے، جبکہ دوسری بیوی کو سہولت نہیں ملتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک سے زائد بیویوں کو بھی ممبرشپ دی جائے۔
جولائی2024 میں اس معاملے کے حوالے سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ ڈویژن میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ملکی قوانین کے تحت ایک سے زائد شادی کی اجازت موجود ہے تو کلب کی پالیسی میں بھی اس کی گنجائش ہونی چاہیے۔ انتظامیہ نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ اس حوالے سے رولز میں مناسب تبدیلی کرے گی اور آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے گی۔
اجلاس میں کلب کی ممبرشپ سے متعلق دیگر امور بھی زیر بحث آئے۔ حکام کے مطابق اس وقت ممبران کی تعداد 10 ہزار سے زائد ہے جبکہ ممبرشپ کی حد 12 ہزار تک بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 برسوں میں 1500 درخواستیں زیر التوا ہیں اور درخواست گزاروں سے 8 کروڑ 37 لاکھ 50 ہزار روپے پیشگی فیس وصول کی جا چکی ہے۔














