آصف علی زرداری کے عمران خان پر طنزیہ تبصرے کے بعد ماضی کے عدالتی ریکارڈ اور تحریریں دوبارہ زیرِ بحث آ گئیں۔
رحیم یار خان: (رائیٹ ناوٴ نیوز) صدر مملکت آصف علی زرداری نے حالیہ خطاب میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید اور صحت سے متعلق طنزیہ تبصرے کیے ہیں، جس کے بعد سیاسی اور صحافتی حلقوں میں پرانے عدالتی ریکارڈ اور تحریریں دوبارہ زیرِ بحث آ گئی ہیں۔
سوئٹزرلینڈ میں بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری سے متعلق مقدمات اور جنیوا کی عدالت کے فیصلوں کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان عدالتی دستاویزات کو حالیہ سیاسی بیانیے کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔
سینئر صحافی عامر متین کا 4 فروری 2013 کو شائع شدہ کالم "فرزانہ راجہ، دی کیچپ گرل” بھی دوبارہ موضوع گفتگو بن گیا ہے۔ مذکورہ کالم میں جیل کے ماحول اور سیاسی مراعات پر طنزیہ انداز اپنایا گیا تھا، جسے بعض حلقے موجودہ صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔
فرزانہ راجہ اس وقت امریکہ میں مقیم ہیں اور ان کے دور میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کی خبریں مختلف اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں۔ واضح رہے کہ حالیہ بیانات کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی مباحث میں ماضی کے مقدمات اور عدالتی فیصلوں کو موجودہ سیاسی بیانیے کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
اس کالم کا ترجمہ درجہ ذیل ہے اور انگریزی متن بھی نیچے دیا گیا ہے۔
فرزانہ راجا ، دی کیچپ گرل
فرزانہ راجا کو میں نے پہلی بار اُس وقت دیکھا جب میں راولپنڈی کی ضلعی عدالت کے احاطے میں آصف علی زرداری سے ملنے گیا تھا۔ یہ ان سے ملنے کا بہترین موقع ہوتا تھا، کیونکہ آصف زرداری نے اپنی قید کا نصف عرصہ ہسپتال میں ہی مقیم رہ کر گزارہ تھا۔
آصف زرداری ہمیشہ اپنے مخصوص مصاحبین کے گھیرے میں ہوتے تھے۔ ہر کوئی کسی نہ کسی طرح “صاحب” کو خوش کرنے کی کوشش میں لگا رہتا۔ قیدی تو وہ تھے ہی مگر بینظیر بھٹو کے شوہر ہونے کی وجہ سے، اردو کے محاورے کے مطابق، وہ اب بھی “سوا لاکھ” کے برابر سمجھے جاتے تھے۔
ایک خادم نے ان کے نجومی، موٹومل، کا پیغام پہنچایا کہ خوش خبری قریب ہے۔ موٹومل آج بھی کئی صدارتی فیصلوں کا روحِ رواں سمجھا جاتا ہے۔ ایک اور خوشامدی نے گولڑہ شریف کے پیر کی طرف سے تعویذ پیش کیا، جو مبینہ طور پر نظرِ بد سے بچانے کے لیے تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہی پیر بعد میں آصف زرداری کو ہی نظرِ بد قرار دے کر طاہرالقادری کی حمایت میں کھڑا ہو گیا تھا۔
اسی دوران ان کے قریبی دوست ڈاکٹر قیوم سومرو، جو آج کل صدر کے سنہری بریف کیس کے نگران سمجھے جاتے ہیں، بسکٹ اور پیٹیز لے آئے۔
میں نے دیکھا کہ ایک حد سے زیادہ بناؤ سنگھار کئے ہوئے عورت بار بار اپنی نشست پر بے چین ہو رہی تھی، جیسے کسی طرح توجہ حاصل کرنا چاہتی ہو۔ اچانک وہ لپک کر آصف زرداری کے پاس پہنچی، ان کی پلیٹ میں کیچپ انڈیلا اور پھر ہماری طرف مڑ کر بڑے فخر سے بولی کہ
“آصف صاحب کو پیٹی کیچپ کے ساتھ پسند ہے۔”
آصف زرداری نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا ہی تھا کہ وہ اچانک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ہم سب کچھ گھبرا سے گئے۔ آصف نے وضاحت کی کہ اس عورت کے شوہر، پیر مکرم علی شاہ، پرنٹنگ کارپوریشن فراڈ کیس میں قیدہیں۔
فرزانہ راجا کا چمکتا پہناوہ، شوخ سرخ لپ اسٹک اور چند لمحے پہلے کی بے فکری دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں کر سکتا تھا کہ وہ اتنے شدید کرب میں ہے۔ مگر جب وہ روئیں تو اس کے آنسو تربوز کے سائز کے تھے۔ سب متاثر ہوئے، سب سے زیادہ آصف زرداری متاثر ہوئے تھے۔
آصف زرداری نے بتایا کہ فرازانہ راجا اتنی وفادار جیالی ہے کہ اپنے شوہر کی پیشی چھوڑ سکتی ہے، مگر آصف زرداری کی پیشی نہیں۔ پھر انہوں نے پیار بھرے انداز میں دانت نکالتے ہوئےفرزانہ راجا کو مخاطب کر کے کہاکہ
“اچھا، اور کیچپ ڈال دو۔”
یہ سنتے ہی وہ عورت ایسے خوش ہو گئی جیسے گڑیا ہو۔ میں نے دل میں سوچا یا تو اسے مدر ٹریسا ایوارڈ ملنا چاہیے، یا بہترین اداکاری پر آسکر۔ مجھے یقین تھا کہ یہ عورت کہیں نہ کہیں ضرور پہنچے گی۔
چودہ برس بعد میرا اندازہ درست نکلا۔
آج فرزانہ راجا پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی اسٹار اور پوسٹر گرل ہیں۔ ہر دوسری تصویر میں وہ آصف زرداری کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ فہمیدہ مرزا اور فرحت اللہ بابر جیسے پرانے اور طاقتور لوگ اس کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گئے۔
آج وہ پارٹی کی سب سے طاقتور خاتون سمجھی جاتی ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ وہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام چلاتی ہیں۔ پارٹی کا ہر کارکن فنڈ کے لیے انہی کی طرف دیکھتا ہے۔ میڈیا ان پر انگلی اٹھانے سے گھبراتا ہے، کیونکہ اشتہارات کا بڑا بجٹ انہی کے ہاتھ میں ہے۔ ایک لفظ خلاف جائے، تو کروڑوں کے اشتہارات بند اس ادارے کے لئے بند ہو جاتے ہیں۔
یہاں تک ہوا کہ بینظیر بھٹو کی برسی پر، کئی بڑے اخبارات نے بینظیر کے قریبی ساتھی بشیر ریاض کا مضمون شائع کرنے کی بجائے فرزانہ راجا کا مضمون شائع کیا۔ آج انہیں آصفہ اور بلاول کی “سیاسی سرپرست” کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔
کیا بینظیر بھٹو یہ سب دیکھ کر خوش ہوتیں؟
ایک پرانے جیالے نے کہا:
“ہرگز نہیں۔ وہ قبر میں کروٹیں بدل رہی ہوں گی۔”
ناہید خان نے تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ فرزانہ پارٹی میں بہت بعد میں آئیں۔ بینظیر انہیں پسند نہیں کرتی تھیں۔ ایک بار پارٹی اجلاس میں انہوں نے چالاکی سے بینظیر کے ساتھ نشست لے کر تصویر بنوائی اور ہر جگہ پھیلا دی۔ بینظیر اس پر شدید ناراض ہوئیں اور ہدایت دی کہ آئندہ فرزانہ راجا کو ان کے قریب نہ آنے دیا جائے۔ مگر 2002 میں آصف زرداری نے انہیں سندھ اسمبلی کی نشست دلوائی۔
وہ اتنی تیزی سے اوپر کیسے پہنچی؟ جواب بہت سادہ ہے،ڈی واٹسن کی وجہ سے۔ وہ اس وقت اسلام آباد کے حلقوں میں نمایاں ہوئیں جب وہ شہر کے ایک نہایت مشکوک شہرت رکھنے والے فارمیسی ٹائیکون کے لیے کام کرتی تھیں۔ ایک موقع پر اس تاجر نے انہیں پاکستان پرنٹنگ پریس کے چیئرمین کے پاس ایک پرنٹنگ آرڈر لے کر بھیجا۔ وہ واپس نہیں آئیں، کیونکہ انہوں نے چیئرمین سے شادی کر لی۔ اندازہ لگانے کی ضرورت نہیں، وہ پیر مکرم شاہ تھے۔ اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، حتیٰ کہ اس وقت بھی نہیں جب وہ پیر صاحب خود جیل چلے گئے۔
ان کے بارے میں یہ افواہیں کہ انہوں نے کسی امیر پاکستانی نژاد امریکی سے شادی کی یا ان کے پاس دوہری شہریت ہے، بظاہر لغو باتیں ہیں۔ اسی طرح بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں مبینہ بدعنوانی کے الزامات بھی ضروری نہیں کہ درست ہوں۔ لیکن ایک بات طے ہے، وہ پاکستان کی سب سے ذہین عورت ہیں۔ آج اگر پیر مکرم شاہ کا نام لیا جائے تو پارٹی میں ان کا کوئی وجود نہیں، جبکہ وہ خاتون، جنہیں وہ سیاست میں لائے تھے، ہر جگہ نظر آتی ہیں۔ کیا یہ سب کچھ محض اس کیچپ کی وجہ سے ہوا؟ شاید ہائنز کو انہیں ملازمت پر رکھ لینا چاہیے تھا۔
عامر متین کے کالم کا انگریزی متن درج ذیل ہے۔
Farzana Raja—the ketchup girl by Amir Mateen
The first time I saw Farzana Raja was when I went to see Asif Zardari on the sidelines of Rawalpindi district courts. This was the best opportunity to meet him when he was not in hospital where he spent half of his jail time.
Asif was always surrounded by his usual courtiers who competed with each other to please the boss—a jail bird he might be but as Benazir’s hubby he was still worth, as an Urdu proverb goes, sawa laakh. A minion brought a message from his soothsayer, one Motumal that good news was around the corner (Motumal remains the chief inspiration for many Presidential decisions). Not to be left behind, another crony gave him a talisman from the Pir of Golra Sharif that would supposedly rid him of the evil eye (the Pir has now declared Asif as the evil eye and backs Tahirul Qadri against him). The crony-in-chief, now in-charge of President’s golden brief case, jail doctor Qayyum Soomro brought biscuits and patties. I saw this overly made-up woman squirming on her seat to get noticed. Suddenly she dashed to Asif Zardari to pour ketchup in his plate and then turned around to inform us, “Asif sahab likes his patty with ketchup.” As Asif gave her an approving smile she suddenly broke up in tears. A little taken aback, Asif explained that her husband Pir Muqaram Ali Shah was also in jail for a printing case fraud.
You could not tell from her gaudy clothes or from the neon red lipstick that she could have been slightly distressed over her husband’s imprisonment or from her hunky-dory demeanor a while ago. But when she cried her tears were the size of water melons. Everybody was moved—Asif Zardari the most. Asif told us that she was such a good party worker that she would miss her husband’s hearing but never his own. No surprises there. Then he cajoled her affectionately, his grin as broad as Suez, saying, “Come on girlie, give me a little more ketchup. Instantly, she cheered up like a doll. This woman, I thought, should either be nominated for a Mother Teresa award or be given an Oscar for her superb acting. Whether in Hollywood or Vatican, I was sure then that this woman would go places.
My guess about Hollywood, though mixed with a few tricks from Bollywood, has been proved right after 14 years. Farzana Raja is the biggest star and PPP’s poster girl. She makes great speeches and is seen shouldering Asif Zardari in every second picture. Farzana has outsmarted the other two competing party Effs—Fehmida and Farahnaz—by miles. She is now the most powerful person in the PPP as, among others things, she runs the party’s biggest welfare scheme, the Benazir Income Support Programme (BISP). Every party member looks up to her for funds. The media dare not touch her as she has cleverly allocated a large amount of money for television advertisements. One word against her and the ads involving millions and billions of rupees are retracted. Articles in her name get published on every party event. So much is her power that on Benazir Bhutto’s death anniversary, most mainstream newspapers rejected the article of Bashir Riaz who was the closest confidant of the late leader and instead published Farzana’s article. She is virtually shown as the god mother of Benazir’s children standing close to Aseefa and Bilalwal.
Would Benazir have liked this? “No way,” said an old timer. “She would be turning in her grave to see Farzana take over the party.” Old stalwart Naheed Khan confirms that Farzana is a late entrant to the party. She got introduced because of her now divorced husband Pir Muqaram Shah whose brother Pir Mazharul Haq is a Sindh Minister. In fact, Benazir disliked her because she once pulled a smart one on her. Benazir had Jahangir Badr seated with her in a party meeting. He got up for a minute for an errand and Farzana sat there pretending as if she had something to say to her. And then she got her photographed sitting next to her and got it flashed all around. Benazir was furious and asked Naheed not to let her come close to her again. She was angry when Asif got her a Sindh Assembly seat in 2002.
How did she go up so fast? Elementary: because of Watson. She beeped on Capital radar when she worked for the city’s most dubious pharmacy tycoon. The tycoon once sent her for a printing order to Printing Press of Pakistan’s Chairman. She never got back because she got married to the Chairman—no points for guessing—Pir Muqaram Shah. She’s never looked back since then—even when the poor Pir got jailed.
Rumours about her alleged marriage to a rich Pakistani American and that she holds a dual nationality are trash. Even the allegations of corruption in BISP may be baseless. But I know that she is the smartest woman in Pakistan. Ever heard about Pir Muqaram Shah now ? He is nowhere in the party and the wife that he introduced ۔is all over. Can it be all because of that bloody ketchup? Perhaps Heinz should hire her.














