اسلام آباد ہائیکورٹ نے کھانے پینے کی اشیاء کے لیے غیر معیاری بوریوں پر پابندی عائد کر دی اور فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کھانے پینے کی اشیاء کے لیے غیر معیاری بوریوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ سیمنٹ والی پرانی بوریوں میں آٹا بھرنا کینسر جیسی بیماریوں کا باعث بن رہا ہے اور وفاقی وزارتِ خوراک اور تمام صوبوں کو مل کر فوری کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔
چیف سیکرٹریز اور فوڈ اتھارٹیز کو اپنے علاقوں میں اس فیصلے پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی تلقین کی گئی ہے۔ پاکستان اسٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی اور وزارتِ خوراک کو تین ماہ کے اندر مکمل رپورٹ عدالت میں جمع کروانے کا حکم دیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے 30 دن کے اندر ملک بھر میں ایسی بوریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کرنے کا حکم دیا ہے۔ غیر معیاری بوریاں بنانے والی فیکٹریوں، گوداموں اور دکانوں پر چھاپے مارے جائیں گے اور سامان ضبط کیا جائے گا۔
قانون توڑنے والوں کے خلاف جرمانوں کے بجائے مقدمات درج کیے جائیں گے اور گرفتاریاں بھی کی جائیں گی۔ جسٹس اعظم خان نے اس حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔














