پنجاب حکومت نے کم عمری کی شادی قانون میں ترمیم کر دی

پنجاب حکومت نے 18 سال سے کم عمر کی شادیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے چائلڈ میرج آرڈیننس 2026 میں ترمیم کی ہے، جس کے تحت سخت سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پنجاب حکومت نے کم عمری کی شادی قانون میں ترمیم کر دی

راولپنڈی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پنجاب حکومت نے چائلڈ میرج آرڈیننس 2026 میں ترمیم کی ہے، جس کے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکا یا لڑکی کی شادی 11 فروری 2026 کے بعد نہیں کی جا سکتی۔ \n\nوالدین یا سرپرستوں کو ایسی شادیوں کی اجازت نہیں ہوگی اور 18 سال سے کم عمر کی شادی غیر قانونی اور قابل گرفت جرم قرار دی گئی ہے۔ \n\nنکاح خواں اور خاندان کے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں مجرمانہ مقدمات کا اندراج بھی شامل ہے۔ نکاح خواں اور خاندان کو 5 لاکھ روپے جرمانہ اور دو سے تین سال قید کی سزا ہو سکتی ہے اور نکاح خواں کا لائسنس بھی منسوخ کیا جائے گا۔ ایسے مقدمات ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن ججز کے ذریعے غیر ضمانتی طور پر چلائے جائیں گے۔ نئے آرڈیننس کے اجراء کے بعد اسے صوبہ بھر میں علاقائی پولیس افسران، سٹی پولیس افسران اور ڈی پی اوز کو بھیجا گیا ہے، تاکہ تمام تھانے نئے قانون کے تحت مقدمات درج کریں۔ ماتحت عدلیہ کو بھی اس کی نقول بھجوائی گئی ہیں۔ \n\nڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر طارق محمود ساجد اعوان نے قانون کو موزوں قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ اس سے سوشل میڈیا جیسے ٹک ٹاک، فیس بک اور انسٹاگرام کے ذریعے بننے والی دوستیوں کے بعد بھاگ کر شادی کرنے کے رجحان پر قابو پایا جا سکے گا۔ تاہم ادارہ تعلیمات اسلامیہ کے سربراہ علامہ ریاض حسین شاہ نے اس قانون کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا۔ سینئر کرمنل وکیل سبطین بخاری ایڈووکیٹ نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازوں کو نبی کریم (ص) کی سیرت کو دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس قانون کو شریعت کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔

دیگر متعلقہ خبریں