سپریم کورٹ نے عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی اور بچوں سے رابطے کی اجازت دی

سپریم کورٹ نے عمران خان کو آنکھوں کے ڈاکٹر تک رسائی اور بچوں سے رابطے کی اجازت دی۔ حکومت نے 16 فروری تک سہولیات کی فراہمی کا یقین دلایا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
سپریم کورٹ نے عمران خان کو طبی سہولیات اور بچوں سے رابطے کی اجازت دی

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سپریم کورٹ نے عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر تک رسائی اور بچوں سے ٹیلیفونک رابطے کی سہولت دینے کا حکم جاری کیا ہے۔ عدالت عظمیٰ میں عمران خان کی صحت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے قرار دیا کہ آنکھ کا معائنہ اور ٹیلی فون کالز 16 فروری سے پہلے مکمل کی جائیں۔ تاہم عدالت نے اہلخانہ کی موجودگی میں آنکھ کے معائنے کی درخواست مسترد کر دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عمران خان کی صحت کا معاملہ اہم ہے اور اس میں مداخلت ضروری تھی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان اس وقت اسٹیٹ کسٹڈی میں ہیں اور ان سمیت تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات ملنی چاہییں۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ 16 فروری تک عمران خان کو ماہر ڈاکٹروں تک رسائی اور بچوں سے رابطے کی سہولیات فراہم کر دی جائیں گی۔

سلمان صفدر کی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے دعویٰ کیا کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی 15 فیصد رہ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2025 تک دونوں آنکھوں کی بینائی نارمل تھی تاہم بعد میں دھندلا پن شروع ہوا۔ رپورٹ کے مطابق پمز اسپتال کے ڈاکٹر محمد عارف نے معائنہ کیا اور مرکزی ریٹینا کی رگ بند ہونے کی تشخیص کی گئی۔ 24 جنوری کو انجکشن کے ذریعے علاج کیا گیا۔

میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا کہ عمران خان کو 24 جنوری کی رات پمز منتقل کیا گیا جہاں انہیں اینٹی وی جی ای ایف انجکشن لگایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق طریقہ کار 20 منٹ میں مکمل ہوا۔ واضح رہے کہ عمران خان اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان کی صحت اور سہولتوں سے متعلق درخواستیں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے عدالت کو بتایا کہ قیدی کو طبی سہولت فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر قیدی مطمئن نہ ہو تو ریاست اقدامات کرے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کے مؤقف سے آگاہ ہونا چاہتے ہیں اور بچوں سے رابطے کا معاملہ بھی اہم ہے۔

عدالت کو وکیل سلمان صفدر اور اڈیالہ جیل انتظامیہ کی رپورٹس موصول ہوئیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں رپورٹس میں زیادہ تر نکات یکساں ہیں اور سہولتوں کو مناسب قرار دیا گیا ہے۔ اہلخانہ سے ملاقات کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا ہونے پر عدالت نے کہا کہ متعلقہ فورم ہی اس کا فیصلہ کرے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ حکومت کا موڈ اچھا ہے اور بچوں سے رابطے کی سہولت بھی فراہم کی جانی چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ دونوں اقدامات 16 فروری سے پہلے کرلیے جائیں۔

دیگر متعلقہ خبریں