وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھیک مانگنا منظم کاروبار بن چکا ہے، جس میں مافیا اور سرکاری عملہ بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھیک مانگنا ایک منظم کاروبار اور باقاعدہ پروفیشن کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ اس کاروبار کے مافیا بچے، عورتیں اور جعلی معذوروں سے کروڑوں روپے کماتے ہیں، جبکہ یہ لوگ ہزاروں بھیک مانگنے والوں کو گلف ممالک میں بھیج رہے ہیں جس کی وجہ سے ان ممالک نے پاکستانی ویزے بند کر دیے ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اس گھناؤنے کاروبار میں ایئرپورٹس پر مختلف محکموں کا عملہ بھی شریک ہے۔ سیالکوٹ میں زیادہ تر افراد جنوبی پنجاب سے آ کر ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں اور بھیک مانگتے ہیں۔ انتظامیہ اور پولیس کی کارروائیوں سے اس کاروبار میں کچھ کمی آئی ہے مگر اب بھی ان کی موجودگی واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ میں بظاہر خوشحال ٹھیکیدار گداگروں کیلئے سفارشی بن کر سامنے آتے ہیں، اور یہ کاروبار انتظامیہ اور پولیس کی سرپرستی کے بغیر نہیں چل سکتا۔















