پینک اٹیک کی علامات کو دباؤ سمجھ کر نظرانداز نہ کریں، یہ بروقت پہچان اور علاج سے کنٹرول کی جا سکتی ہیں۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اکثر افراد پینک اٹیک کی علامات کو روزمرہ کے دباؤ یا ذہنی تناؤ کا حصہ سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، جبکہ دونوں میں واضح فرق ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، بروقت پہچان اور درست علاج سے پینک اٹیک کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے۔
پینک اٹیک ایک ایسی حالت ہے جس میں جسم خطرے کے بغیر ہی شدید ردعمل ظاہر کرتا ہے، جبکہ ذہنی دباؤ آہستہ آہستہ بڑھتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، 35 فیصد افراد زندگی میں کم از کم ایک بار پینک اٹیک کا سامنا کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پینک اٹیکس کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو یہ پینک ڈس آرڈر کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ ایسی سات نمایاں علامات جو بظاہر اسٹریس لگتی ہیں، مگر دراصل پینک اٹیک کی نشاندہی ہو سکتی ہیں، ان میں دل کی دھڑکن کا اچانک تیز ہونا، سانس لینے میں دشواری، زیادہ پسینہ آنا، سینے میں درد، چکر آنا، متلی اور شدید خوف شامل ہیں۔
یہ علامات اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور ان کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو حالت بگڑ سکتی ہے۔ ان علامات کی پہچان اور علاج سے پینک اٹیک کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔















