امریکہ اور بھارت نے جمعے کو عبوری تجارتی فریم ورک جاری کیا جس میں ٹیرف میں کمی اور توانائی کے شعبے میں تعاون پر اتفاق ہوا۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکہ اور بھارت نے جمعے کے روز ایک عبوری تجارتی فریم ورک جاری کیا، جس کے تحت ٹیرف میں کمی، توانائی کے شعبے میں تعاون اور معاشی شراکت داری کو وسعت دینے پر اتفاق ہوا۔ یہ فریم ورک دونوں ممالک کے درمیان جامع دوطرفہ تجارتی معاہدے کی سمت اہم قدم ہے، تاہم مکمل معاہدے کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ بھارتی مصنوعات پر عائد ٹیرف 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دے گا، اگر بھارت روسی تیل کی خریداری بند کرے اور تجارتی رکاوٹیں کم کرے۔ بھارت نے امریکی دباؤ کے باوجود اپنی زرعی منڈی کو مکمل طور پر کھولنے سے گریز کیا ہے۔
Under the decisive leadership of PM @NarendraModi ji, India has reached a framework for an Interim Agreement with the US. This will open a $30 trillion market for Indian exporters, especially MSMEs, farmers and fishermen. The increase in exports will create lakhs of new job… pic.twitter.com/xYSjxML6kt
— Piyush Goyal (@PiyushGoyal) February 7, 2026
عبوری فریم ورک کے مطابق بھارت آئندہ پانچ برس میں امریکہ سے 500 ارب ڈالر کی مصنوعات خریدے گا، جن میں تیل، گیس، کوکنگ کوئلہ، ہوائی جہاز اور ٹیکنالوجی مصنوعات شامل ہیں۔ بھارت امریکی صنعتی مصنوعات اور متعدد زرعی و غذائی اشیا پر ٹیرف ختم یا کم کرے گا، جبکہ امریکہ بھارت سے درآمدات پر 18 فیصد ٹیرف برقرار رکھے گا۔
دونوں ممالک نے حساس ٹیکنالوجیز کے برآمدی کنٹرول، سپلائی چین کے تحفظ اور تیسرے ممالک کی غیر منڈی پالیسیوں سے نمٹنے پر بھی تعاون پر اتفاق کیا۔ حکام کے مطابق چین کے ساتھ عالمی مسابقت، توانائی سلامتی اور سپلائی چین کی ازسرنو تشکیل نے ان مذاکرات کو نئی رفتار دی ہے۔













