ہالیجی جھیل کو ماحولیاتی بحران کا سامنا ہے، جس سے مہاجر پرندے متاثر ہو رہے ہیں۔ پانی کی کمی اور آلودگی نے جھیل کے قدرتی توازن کو بگاڑ دیا ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سندھ کی تاریخی ہالیجی جھیل ماحولیاتی بحران کا شکار ہو گئی ہے۔ پانی کی کمی، آلودگی اور جمود نے جھیل کے قدرتی توازن کو متاثر کر دیا ہے، جس سے مہاجر پرندے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ہالیجی جھیل کو پاکستان کی پہلی انسان ساختہ آبی ذخیرہ گاہ کہا جاتا ہے، جو 1942 میں برطانوی افواج کے لیے پانی کی فراہمی کے لیے قائم کی گئی تھی۔
ہالیجی جھیل میں گزشتہ دہائی میں شدید ماحولیاتی تبدیلیاں آئیں۔ سندھ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار سہیل احمد کھوسو کے مطابق، دریائے سندھ سے جھیل میں میٹھے پانی کی آمد گزشتہ آٹھ برس سے بند ہے۔ اس کی وجہ سے جھیل کی ماحولیاتی صحت متاثر ہوئی ہے اور مہاجر پرندوں کی تعداد میں کمی آ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق ہالیجی جھیل پاکستان کے 19 رامسر تسلیم شدہ دلدلی علاقوں میں شامل ہے اور یہ انڈس فلائی وے پر واقع ہے، جہاں سائبیریا سے پرندے آتے ہیں۔ مگرمچھوں کی بڑی آبادی بھی اس جھیل میں موجود ہے۔ ماہرِ ماحولیات رفیع الحق کا کہنا ہے کہ جھیل میں میٹھے پانی کی بحالی ضروری ہے تاکہ حیاتیاتی تنوع برقرار رہ سکے۔















