ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی فوجی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے میں فوجی امور پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی فوجی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جغرافیائی طور پر ایران سے دور ہونے کے باوجود خطے میں فوجی امور پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے آبنائے ہرمز کو خطے کے لیے ایک اہم سمندری راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ ایران کی سرحدوں کے قریب واقع ہے، جبکہ امریکی فوج ایران کے ساحل سے دور موجود ہے۔ ان کے مطابق اس کے باوجود امریکہ ایرانی مسلح افواج کی مشقوں پر سوال اٹھا رہا ہے۔
Marked in yellow in the Western Hemisphere, you have the United States.
Several oceans away, on the other side of the planet, Iran’s borders are marked in yellow.
The little circle in red is the Strait of Hormuz.
Operating off our shores, the US military is now attempting to… pic.twitter.com/3KlHdHSYHc
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) January 31, 2026
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ ایک ایسی فوج سے پیشہ ورانہ طرز عمل کا مطالبہ کر رہی ہے جسے خود امریکی حکومت نے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے، جبکہ اسی فوج کے فوجی مشقیں کرنے کے حق کو تسلیم بھی کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے یورپی حکومتوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرز عمل کو قبول کر رہی ہیں، جو عالمی سطح پر ایک تضاد کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
سید عباس عراقچی کے مطابق پاسداران انقلاب اسلامی ہمیشہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں امن و استحکام کے تحفظ کا کردار ادا کرتی رہی ہے اور خطے میں اسے ایک مؤثر قوت کے طور پر جانا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ اتنی ہی اہم ہے جتنی اس کے ہمسایہ ممالک کے لیے ہے، جبکہ بیرونی افواج کی موجودگی خطے میں کشیدگی میں کمی کے بجائے اضافے کا باعث بنی ہے۔












