آبنائے ہرمز میں فوجی مشقوں کے متعلق امریکی بیانات تضاد کا شکار ہیں،ایرانی وزیرخارجہ

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی فوجی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ خطے میں فوجی امور پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ایرانی وزیر خارجہ کا امریکی فوجی سرگرمیوں پر موقف

تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی فوجی سرگرمیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جغرافیائی طور پر ایران سے دور ہونے کے باوجود خطے میں فوجی امور پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کو خطے کے لیے ایک اہم سمندری راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ ایران کی سرحدوں کے قریب واقع ہے، جبکہ امریکی فوج ایران کے ساحل سے دور موجود ہے۔ ان کے مطابق اس کے باوجود امریکہ ایرانی مسلح افواج کی مشقوں پر سوال اٹھا رہا ہے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ ایک ایسی فوج سے پیشہ ورانہ طرز عمل کا مطالبہ کر رہی ہے جسے خود امریکی حکومت نے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے، جبکہ اسی فوج کے فوجی مشقیں کرنے کے حق کو تسلیم بھی کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے یورپی حکومتوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرز عمل کو قبول کر رہی ہیں، جو عالمی سطح پر ایک تضاد کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

سید عباس عراقچی کے مطابق پاسداران انقلاب اسلامی ہمیشہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں امن و استحکام کے تحفظ کا کردار ادا کرتی رہی ہے اور خطے میں اسے ایک مؤثر قوت کے طور پر جانا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور تجارتی جہازوں کی محفوظ گزرگاہ اتنی ہی اہم ہے جتنی اس کے ہمسایہ ممالک کے لیے ہے، جبکہ بیرونی افواج کی موجودگی خطے میں کشیدگی میں کمی کے بجائے اضافے کا باعث بنی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں