فیصل ممتاز راٹھور وزیر اعظم آزاد کشمیر منتخب، تحریک عدم اعتماد کامیاب

چودھری انوارالحق کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب، پیپلز پارٹی کے امیدوار  فیصل ممتاز راٹھور 36 ووٹ لے کر وزیر اعظم آزاد کشمیر منتخب ہو گئے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

مظفر آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چودھری انوارالحق کیخلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی ہے اورپیپلز پارٹی کے امیدوار  فیصل ممتاز راٹھور 36 ووٹ لے کر وزیر اعظم آزاد کشمیر منتخب ہو گئے ہیں۔

آزاد کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد ایوان میں پیش کی گئی جس پر رائے شماری ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے چوہدری قاسم مجید نے مظفر آباد میں عدم اعتماد کی تحریک پیش کی ہے۔تحریک عدم اعتماد میں متبادل قائد ایوان کے طور پر فیصل ممتاز راٹھور کا نام پیش کیا گیا ہے۔

تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے لیے سادہ اکثریت27 ووٹ درکار ہیں، کامیابی کی صورت میں وزیراعظم انوار الحق اپنے منصب سے فارغ ہو جائیں گے، موجودہ وزیراعظم چوہدری انوار الحق اپریل 2023 میں 48 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہوئے تھے۔

پیپلز پارٹی، ن لیگ کے ارکان اسمبلی مظفرآباد پہنچنا شروع ہوگئے، پی ٹی آئی فارورڈ بلاک اور دیگر ارکان بھی مظفرآباد پہنچ رہے ہیں، پیپلز پارٹی کا دعویٰ حمایت 36 سے بڑھ کر 38 ہو گئی۔

فارورڈ بلاک کے مزید 2 ارکان تحریک عدم اعتماد میں شامل ہیں، تحریک عدم اعتماد پر شاہ غلام قادر اور راجہ فاروق حیدر کے دستخط موجود ہیں۔ مسلم لیگ نون کا قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ برقرار ہے۔

شہر میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں، آزاد کشمیر کے نئے وزیراعظم کی حلف برداری کل بروز منگل متوقع ہے، حلف برداری میں پیپلز پارٹی پاکستان کی مرکزی قیادت کی شرکت کا امکان ہے۔

تحریک کامیاب ہوئی تو فیصل ممتاز راٹھور آزاد کشمیر کے سولہویں وزیراعظم ہوں گے ، فیصل ممتاز راٹھور موجودہ اسمبلی کے چوتھے وزیراعظم ہوں گے، وزیراعظم انوار الحق نے مستعفی ہونے کی بجائے تحریک کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

نئی حکومت کو دو بڑے سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے، ایکشن کمیٹی کے معاہدوں پر عملدرآمد نئی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے ، مسلم لیگ نون کے قبل از وقت انتخابات کے مطالبے پر عملدرآمد بھی نئی حکومت کے لیے کڑا امتحان ہے۔

کابینہ کو 20 وزراء تک محدود رکھنا بھی نئی حکومت کے لیے آزمائش ہوگی جب کہ آج کی رائے شماری آزاد کشمیر کی سیاست کا نیا رخ متعین کرے گی۔

 

انوار الحق نے ایوان میں نامزد قائد ایوان کا استعفیٰ پڑھ کر سنایا  اور کہا کہ اکثریت حاصل ہونے پر جانے والے کو چلے جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ستائیس اراکین میرے خلاف ہیں تو  وہ اپنا استعفیٰ دے دیں گے۔ انوار الحق نے کہا کہ وہ اس ایوان کی قدر کرتے ہیں اور اس کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

بعض اراکین اسمبلی انوار الحق کے ساتھ ایوان سے باہر چلے گئے، جن میں میاں اظہر صادق، میر اکبر، بیگم امتیاز نسیم اور صبیحہ صدیق شامل ہیں۔ سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ فیصل راٹھور سے توقع ہے کہ وہ موجودہ مسائل کو حل کریں گے۔آئین کے مطابق جولائی سے قبل آزاد کشمیر میں انتخابات ہونے چاہئیں۔ راجہ فاروق حیدر نے پیپلز پارٹی کے ایجنڈے اور فیصل راٹھور  پر اعتماد کا اظہار کیا۔

دیگر متعلقہ خبریں