صدر ٹرمپ نے گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ بنانے کی خواہش ظاہر کی، جس سے عالمی بحث نے جنم لیا۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) صدر ٹرمپ کے بیان نے گرین لینڈ کو امریکا کا حصہ بنانے کی خواہش کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر بحث نے جنم لیا ہے۔ گرین لینڈ، جو دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، امریکا کے لیے تاریخی اعتبار سے ایک بڑی حصولیابی ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر امریکا گرین لینڈ کو حاصل کر لیتا ہے تو یہ لوزیانا، میکسیکن سیشن اور الاسکا کی خریداری سے بھی زیادہ بڑا زمینی ٹکڑا ہوگا۔ گرین لینڈ کا کل رقبہ 836,000 مربع میل ہے، جو متعدد یورپی ممالک کے مجموعی رقبے سے زیادہ ہے۔
گرین لینڈ کے حصول میں امریکا کی دلچسپی قومی سلامتی کی وجہ سے ہے، کیونکہ آرکٹک میں روس اور چین کی بڑھتی سرگرمیاں خطرہ بن سکتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کی دلچسپی کی ایک وجہ زمین کی وسعت اور علامتی طاقت بھی ہے۔
امریکا نے پہلے بھی 1867 اور 1946 میں گرین لینڈ خریدنے کی کوشش کی تھی لیکن کامیاب نہ ہو سکا۔ بعد میں آنے والے امریکی صدور نے بھی گرین لینڈ پر قبضے کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔
گرین لینڈ کی تاریخ میں قدیم انویٹ قبائل کی 2500 قبل مسیح میں آبادکاری، وائکنگ دور میں نارویجین وائکنگ ایرک دی ریڈ کی دریافت، ناروے اور ڈنمارک کے اتحاد کے بعد ڈنمارک کے کنٹرول میں آنا شامل ہیں۔ 2009 میں گرین لینڈ کو وسیع خودمختاری ملی، البتہ دفاع اور خارجہ امور میں ڈنمارک پر انحصار برقرار ہے۔












