شام میں فوجی اڈا بنانے کی تیاری، سابق القاعدہ کمانڈر کا وائٹ ہاؤس میں خیرمقدم

احمد الشراء کا وائٹ ہاؤس دورہ، شام۔امریکا تعلقات میں تبدیلی، پابندیوں میں نرمی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےاس ہفتے کا آغاز  سابق القاعدہ جہادی کمانڈر اور موجودہ شام کے عبوری صدر احمد الشراء کا وائٹ ہاؤس میں استقبال کرنے سے کیا جو کہ  ان کا پہلا امریکی دورہ ہے۔ احمد الشراء نے 2024 میں شام میں بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا اور حیات تحریر الشام کی قیادت کرتے ہوئے القاعدہ سے علیحدگی کا اعلان کیا۔

احمد الشراء نے شمالی شام کے ادلب علاقے میں کنٹرول کے دوران عسکری تشخص کو کم کر کے سیاسی سمت اختیار کی اور مقامی انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنایا۔ ان کے گروہ کی قیادت کا مقصد علاقائی امن اور مختلف کمیونیٹیز کے ساتھ بقائے باہمی ہے۔

امریکی انتظامیہ نے شام سے متعلق اپنی پالیسی نرم کرتے ہوئے 2018 کی کئی پابندیاں جزوی طور پر ختم کی ہیں۔ ملاقات کے بعد مزید پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا گیا۔ امریکا شام میں فضائی اڈے کے قیام اور روسی اثرات کو کم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

احمد الشراء کے دورے کا مقصد اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں سفارتی حمایت حاصل کرنا بھی تھا۔ انہوں نے داعش کے خلاف عالمی اتحاد کے ساتھ کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا اور شام کی تعمیر نو کے لیے عالمی بینک فنڈنگ کی بحالی بھی ان کے ایجنڈے میں شامل ہے۔

شام میں خانہ جنگی کے دوران 6 لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں۔ خطے کے ممالک، خصوصاً لبنان، ترکی اور اردن، شام میں استحکام کے خواہشمند ہیں تاکہ سرحدی صورتحال معمول پر آئے اور پناہ گزینوں کی واپسی ممکن ہو سکے۔

دیگر متعلقہ خبریں