سپریم کورٹ نے پنجاب پولیس پر مقدمات میں جھوٹ لکھنے کا الزام لگایا، جس سے ملزمان کو فائدہ ہوتا ہے۔ عدالت نے ملزم عبدالستار کی ضمانت منظور کی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سپریم کورٹ نے پنجاب پولیس پر مقدمات میں غلط بیانی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جرم ایک کرتا ہے، مگر نامزد پورا خاندان ہو جاتا ہے، جس سے شکوک کا فائدہ ملزم کو ہوتا ہے۔
یہ ریمارکس سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے مخالف فریق کو زخمی کرنے کے کیس میں ملزم عبدالستار کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران دیے۔ جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بینچ نے پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھایا کہ اتنے لوگوں کے ہجوم میں کیسے معلوم ہوا کہ کس کا فائر کس کو لگا۔
عدالت نے نشاندہی کی کہ پنجاب پولیس کے مقدمات میں گولیوں کا ذکر کیا جاتا ہے، جس سے اصل مجرم بچ نکلتا ہے، کیونکہ عدالتیں ریکارڈ کی محتاج ہوتی ہیں۔ دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے ملزم عبدالستار کی ضمانت منظور کرلی۔















