چین میں قیمتی درختوں اور اشیاء کو ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کرنے کا رجحان

چین میں قیمتی درختوں اور اشیاء کو ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس کا مقصد روایتی صنعتوں کو سرمایہ فراہم کرنا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
چین میں قیمتی درختوں اور اشیاء کو ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کرنے کا رجحان [Draft]

بیجنگ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چین میں سرمایہ کاروں کے نئے رجحانات کی وجہ سے قیمتی درخت، مہنگی چائے اور دیگر اشیاء کو ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد روایتی صنعتوں کو سرمایہ فراہم کرنا ہے، تاہم اس کے مستقبل کے حوالے سے سوالات بھی موجود ہیں۔

ہائنان جزیرے میں نایاب ہوانگ ہوا لی درختوں کی تصاویر ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کی جا رہی ہیں، جو قیمتی لکڑی کی ایک قسم ہے۔ جیلی ٹیکنالوجی گروپ کے مطابق اس اقدام سے جنگلاتی صنعت میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔

جیلی ٹیک ہانگ کانگ میں ڈیجیٹل ٹوکنز کا پہلا مرحلہ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے تقریباً 10 کروڑ ہانگ کانگ ڈالر جمع کیے جائیں گے۔

یہ رجحان صرف درختوں تک محدود نہیں، بلکہ اعلیٰ درجے کی چائے، مہنگی شراب اور دیگر اشیاء کو بھی ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

ہانگ کانگ میں اس ماڈل کو پذیرائی مل رہی ہے، تاہم چین کے اندر سرمایہ کاری کی پابندیاں موجود ہیں۔ شنگھائی میں پوئر چائے کو بھی ڈیجیٹل اثاثوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں