ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات کو 9 سال بعد بھی یاد کیا جاتا ہے، جذام کے خاتمے میں اہم کردار

ڈاکٹر رتھ فاؤ نے 1960 میں پاکستان میں قدم رکھا اور جذام کے خاتمے کی تاریخ رقم کی۔ ان کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ڈاکٹر رتھ فاؤ کی خدمات کو 9 سال بعد بھی یاد کیا جاتا ہے، جذام کے خاتمے میں اہم کردار

کراچی: (رائیٹ ناؤنیوز) طب کی دنیا کی معروف شخصیت ڈاکٹر رتھ فاؤ کی وفات کو 9 برس ہوچکے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں جذام کے مرض کے خاتمے کے لیے اپنی زندگی وقف کردی تھی۔

ڈاکٹر رتھ فاؤ نے 1960 میں پاکستان کا پہلا دورہ کیا اور جذبہ خدمت کے تحت جذام کے مریضوں کی دیکھ بھال شروع کی۔ اس وقت متاثرہ افراد کو معاشرتی طور پر الگ تھلگ سمجھا جاتا تھا۔

ان کی کوششوں سے کراچی کے صدر علاقے میں میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر قائم کیا گیا جہاں ایسے مریضوں کی دیکھ بھال کی جاتی ہے جنہیں معاشرہ ترک کر دیتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے 1996 میں پاکستان کو جذام سے پاک ملک قرار دیا، یہ ڈاکٹر فاؤ کی کاوشوں کا اعتراف تھا۔ سول ہسپتال نے ان کے نام سے لائبریری کا اعلان کیا۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر رتھ فاؤ کو ستارہ قائد اعظم اور ستارہ ہلال سے نوازا گیا تھا۔ ان کا انتقال 10 اگست 2017 کو ہوا اور انہیں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

دیگر متعلقہ خبریں